BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 20:29 GMT 01:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں کم شدت کے تین دھماکے

لاہور پولیس
پولیس حکام کاکہنا یہ ٹائم ڈیوائس یا ریموٹ کنٹرول بم ہوسکتے ہیں
لاہور کے گنجان علاقے گڑھی شاہو چوک میں یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے ہیں جس میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس لاہور مشتاق سکھیرا کا کہنا ہے کہ یہ کم شدت کے بم تھے اور ان کا مقصد خوف وہراس پھیلاناہے۔

دھماکوں سے متعدد دکانوں کو نقصان پہنچا بیشتر کے شیشے ٹوٹے چند ایک کے شٹر ٹوٹ گئے۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکے پاکستانی وقت کےمطابق رات پونے دس بجے کے قریب ہوئے اور بیس سے پچیس منٹ کے وقفے میں باقی دونوں دھماکے بھی ہوگئے۔

بعد کے دھماکوں میں بم ڈسپوزل کی اس گاڑی کو بھی نقصان پہنچا جو دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی۔

پہلے دو دھماکے جوس کی دکانوں پر ہوئے اے ایس پی سول لائنز کا کہنا ہے کہ تیسرا دھماکہ پچاس گز کے فاصلے پرایک ہیئر ڈریسر اینڈ بیوٹی پارلرکی دکان کے سامنے ہوا۔

گڑھی شاہو کے اس مقام پر جوس کی ایک درجن سے زائد دکانیں ہیں جہاں شام کو فیملیز اور دن میں کبھی کبھار نوجوان جوڑے جوس پیتے دکھائی دیتے تھے۔ چند دکانداروں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہیں دھمکی آمیز فون آئے تھے اور دکانوں سے کیبن بند کرنے کامطالبہ کیا گیاتھا۔

پولیس نے ایسی کسی دھمکی آمیز فون کی تصدیق نہیں کی۔ سٹی پولیس چیف لاہور پرویز راٹھور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ انہیں کسی دکاندار نے ایسے دھمکی آمیز فو ن کی شکائت نہیں کی تھی اگر کوئی کرتا تو اسے مناسب سیکیورٹی فراہم کردی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ پہلا بم ایک کلو بارود کے دھماکے کا تھا جبکہ دوسرے دونوں آدھ آدھ کلو کے تھے۔

پولیس حکام کاکہنا یہ ٹائم ڈیوائس یا ریموٹ کنٹرول بم ہوسکتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ کیمیاوی تجزیہ کے بعد اس کی ساخت کےبارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرسکیں گے۔

ڈپٹی انسپکٹرجنرل انوسٹی گیشن پولیس مشتاق سکھیرا نے کہا کہ موجودہ دھماکوں کی نوعیت اور ٹارگٹ لاہور میں ہونے والے گز شتہ دھماکوں سے مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ برس کے دوران ہونے والے دھماکے خود کش تھے اور ان کا نشانہ پولیس یا سیکیورٹی فورسز تھے جبکہ موجود دھماکے کم شدت کے تھے اور ان کا مقصد بظاہر جانی نقصان سے زیادہ خوف و ہراس پھیلانا معلوم ہوتا ہے۔

صرف دوروز قبل ہی جنوبی پنجاب کے ایک دورافتادہ شہر بھکر میں بھی ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ رکن قومی اسمبلی رشید اکبر نوانی سمیت ساٹھ کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد