تمام نظریں منتخب نمائندوں پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پارلیمان کو فوجی حکام بند کمرے میں جو بریفنگ گزشتہ دو روز سے دے رہے ہیں وہ یقیناً اراکین اسمبلی کے لیے کسی ڈراؤنی فِلم سے کم نہیں ہوگی۔ رونگٹے کھڑے کر دینی والی یہ ’فلم‘ گزشتہ کئی برسوں سے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں چل رہی تھی لیکن اس کی ایک واضع تصویر خوفناک اعداوشمار کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کی جانب سے ذبح کیے جانے جیسی تصاویر کی صورت میں منتخب اراکین کو دکھائی گئی ہے۔ اگر ایک جانب منتخب اراکین کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کو اپنی جنگ قرار دے کر گود لینے پر مجبور کیا جا رہا تھا تو اسی شہر میں چند کلومیٹر کی دوری پر شدت پسندوں نے پولیس لائینز پر حملہ کیا اور دِیر میں پولیس کی بس کو اڑا دیا۔
اسلام آباد میں یکے بعد دیگرے حملوں نے بتا دیا ہے کہ اس شہر کے بارے میں ملک کے دیگر شہروں کی نسبت زیادہ محفوظ ہونے کا تاثر اب باقی نہیں رہا۔ شدت پسند بدلتے وقت کے ساتھ اپنی تکنیک بھی تبدیل کرتے رہے ہیں۔ عسکریت پسندوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر انہیں حملوں کے لیے فوجی نہیں ملیں گے تو وہ ایف سی والوں کو اور اگر وہ بھی نہیں تو پولیس والوں کو تو باآسانی نشانہ بنا ہی سکتے ہیں اور یہ کہ وہ ایسا کرتے رہیں گے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر اسلام آباد کو حکام بغداد کی طرز پر ریڈ اور گرین زون میں تقسیم کر بھی دیں تو بلآخر ان مقامات کے داخلی راستوں پر کسی کو تو تعینات کرنا پڑے گا۔ پولیس نہیں تو جو اور بھی ڈیوٹی دے گا وہ بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ عوامی مقامات پر حملے تو آسان ہیں ہی عسکریت پسندوں کے پاس تو اتنی صلاحیت بھی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اندر گھس کر حملہ کرسکتے ہیں۔ یہ انہوں نے آج پولیس لائنز پر حملے میں ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے۔ اور جہاں وہ اندر نہیں گھس سکتے، جیسا ہم میریئٹ میں دیکھ چکے، تو اتنا گولہ بارود لائیں گے کہ اندر داخل ہونے کی انہیں ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ ان کے پاس بظاہر راستے بہت ہیں۔ وہ حملے سوچنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے میں بھی بظاہر سکیورٹی اداروں سے دو قدم آگے ہیں۔ ان پر نظر رکھنے اور ان کے منصوبوں کو ناکام بنانے والے سرکاری اداروں ان سے کوسوں دور ہیں۔ شدت پسند ثابت کرنا چاہیے ہیں کہ ان کے چند پیدل جنگجوں کو گرفتار کرنے سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔
حکومت پارلیمان کی بریفنگ سے بظاہر جو نتیجہ حاصل کرنا چاہتی ہے وہ یہ ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف تفریق کو مزید واضح کیا جائے۔ وہ چاہتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، وہ بھی جنہیں وہاں نمائندگی حاصل نہیں، مل کر یک زبان ہو کر شدت پسندوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیں۔ وہ چاہتی ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو امریکی نہیں اپنی جنگ کی سند جاری کر دیں۔ فوجی ذرائع نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی انہیں مکمل حمایت حاصل ہے کہ اس جاری کارروائی کو اس کے منتقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اسی حمایت کو بڑھاتے ہوئے وہ چاہتی ہے کہ تمام قوم فوجی کارروائیوں کی حمایت کر دے۔ ’آپ یا ان کے ساتھ ہیں یا ہمارے ساتھ۔‘ ماضی میں جو جنگ ایک فوجی آمر اور اس کی فوج لڑ رہی تھی اب اسی جنگ کو اس کے انجام تک پہچانے کے لیے اگر دیکھا جائے تو فوج کو بھی بلآخر سیاستدانوں کی ضرورت ہی پڑی ہے۔ پارلیمنٹ میں جانے سے ثابت ہوا کہ طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ اگر سیاسی عمل بھی اس میں شامل ہو تو تب ہی کوئی پائیدار پیش رفت حاصل ہوسکتی ہے۔ لیکن منتخب نمائندوں کو اس بابت اب تدبر اور دانش کا مظاہرہ کرنا ہے۔ تمام نظریں ان پر لگی ہیں کہ وہ کیا پالیسی اپناتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ | اسی بارے میں اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ20 September, 2008 | پاکستان رکنِ اسمبلی کے ڈیرے پر دھماکہ،بیس ہلاک06 October, 2008 | پاکستان بھکر حملے میں ہمارا ہاتھ نہیں: طالبان07 October, 2008 | پاکستان ’دہشتگردوں کا صفایا کرنا ہوگا‘07 October, 2008 | پاکستان آخری دم تک لڑیں گے: اسفندیار 02 October, 2008 | پاکستان چارسدہ: ولی باغ پر خودکش حملہ02 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||