BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 September, 2008, 19:00 GMT 00:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیانات پر پارلیمان کو بریفنگ دیں‘

زرداری
صدر زرداری کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیکر امریکہ جاتے: چوہدری نثار
قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف اور مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما چوہدری نثار نے کہا ہے کہ صدر زرداری پارلیمنٹ کو قومی پالیسی بنانے کا مکمل اختیار دیں جبکہ صدر عید کے بعد اپنے دورہ امریکہ کے دوران دیئے گئے بیانات پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بریفنگ دیں۔

سوموار کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ صدر زرداری کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیکر امریکہ جاتے اور وہاں پاکستان کے مفاد کی پالیسی پر اظہار خیال کرتے۔

’لیکن یہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے کہ صدر زرداری کا امریکی صدر بش سے ملاقات میں ان کو کہنا کہ آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا محفوظ ہو گئی ہے، لگ رہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرح صدر زرداری بھی صدر بش کی ہی پالیسی دوبارہ لا کر پارلیمنٹ پر مسلط کر دیں گئے جس سے سوائے ملک کو مزید تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ عید کے بعد قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس میں اراکین قومی اسمبلی کو صدر زرداری دورہ امریکہ کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو بطور قائد حزب مخالف وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی کو اجلاس طلب کرنے کا کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صدر نئی قومی پالیسی وضع کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو دیں۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے کہ اس موقع پر بیرونی امداد کیوں آ رہی ہے جب یہ کہا جا رہا ہے کہ اپنے لوگوں کو مارو اور ان پر بمباری کرو۔

چوہدرری نثار کے مطابق پاکستان کو ایک ایسا صدر چاہیے کہ جو عوام کو خوش کرے نہ کہ وہ جو امریکی صدر بش، افغان صدر حامد کرزئی اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی خوشنودی کے لیے بیانات دے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کو متحرک کرنا ہو گا لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ملک کے فیصلے امریکہ سے آتے رہیں گئے۔

 صدر زرداری کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق پہلا سرکاری دورہ چین کا کرتے لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں کہ ساری دنیا کا چکر لگانے کے بعد وہ ایک ماہ کے بعد کہیں کہ اب وہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر چین جا رہے ہیں۔
چوہدری نثار

انہوں نے کہا ’صدر بش کو خوش کرنے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے فیصلے پارلیمنٹ میں کرنے ہونگے کہ کون سا ملک ہمارا دشمن ہے اور کونسا ہمارا دوست ہے۔‘

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران سمیت تمام دوست ممالک کے ساتھ دوبارہ سے مضبوط تعلقات قائم کرنے ہو نگے۔

’صدر زرداری کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق پہلا سرکاری دورہ چین کا کرتے لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں کہ ساری دنیا کا چکر لگانے کے بعد وہ ایک ماہ کے بعد کہیں کہ اب وہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر چین جا رہے ہیں۔‘

چوہدری نثار نے مشیر داخلہ رحمان ملک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ تمام تر وسائل کے باوجود عوام کو یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ میریئٹ خودکش حملے اور دیگر دہشت گردی کے واقعات میں کون سے غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں۔

اسی بارے میں
’امریکہ سے معاہدے ختم کریں‘
18 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد