دہشتگردی کا شکار ہیں نہ کہ اسکی وجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر آصف زرداری نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ ہے لیکن وہ اپنے دوستوں کو اپنی خود مختاری اور سالمیت پامال نہیں کرنے دے گا۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قیمت ادا کر چکا ہے اور اس جنگ میں شریک سینتیس ممالک سے زیادہ قربانیاں دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں شریک تمام ممالک سے زیادہ پاکستان کے فوجی مارے جا چکے ہیں۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے اور اس کا واضح ثبوت ان کی بیوی اور پاکستان کی مقبول رہنما بینظیر بھٹو کا قتل ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں آج تک یہ نہیں پتہ کہ بینظیر بھٹو کو کس نے مارا، کیوں مارا، مارنے والے کون تھے ، انہیں تربیت اور اسلحہ کس نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات سے پاکستان کے لوگوں کو یہ پیغام ملے گا کہ دنیا کو ان کا خیال ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ جب ملک کا صدر اور اس کے بچے اقوام متحدہ کے ذریعے انصاف نہیں حاصل کر سکتے تو دنیا کے غریب اور بے سہارا لوگ اقوام متحدہ سے کیا امیدیں وابستہ کر سکتے ہیں۔ صدر زرداری نے اقوام متحدہ کو انسانیت کا واسطہ دیتے ہوئے کہا کہ اگے بڑھ کر بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرے۔ آصف زرداری نے کہا کہ نظریہ بھٹو تجدید تعلقات کا نظریہ ہے اور پاکستان کی بقا اسی نظریے میں پنہاں ہے۔ صدر زرداری نے نظریہ بھٹو کا یورپ کے مارشل پلان سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طری مارشل پلان کے تحت یورپ نے کمیونزم کا مقابلہ کیا اسی طرح نظریہ بھٹو کے تحت دہشتگردوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارشل پلان اس نظریے پر قائم تھا کہ معاشی طور پر مستحکم یورپ کمیونزم کا بہتر مقابلہ کر سکے گا اور نظریہ بھٹو بھی اس اصول پر مبنی ہے کہ معاشی طور پر خوشحال پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ اگر القاعدہ اور طالبان سمجھتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کو قتل کر کے نظریہ بھٹو کو بھی مٹا دیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ انہوں نے بینظیر بھٹو تو مر چکیں لیکن ان کا نظریہ زندہ ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ موجودہ دہشتگردی کی ابتدا افغانستان میں سپر پاورز کی پنجہ آزمائی سے ہوئی اور موجودہ دنیا اسّی کی دہائی میں افغانستان میں ہونے والی لڑائی کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی شکست کے بعد ساری دنیا نے تیس لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں چھوڑ کر اس سے منہ موڑ لیا اور اب نتائج ساری دنیا کے سامنے ہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ پاکستانی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے بیوی بچے قربان کر رہے ہیں اور وہ عالمی رہنماؤں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ بھی پاکستان کے ساتھ اسی طرح کھڑے ہیں جس طرح پاکستان مہذب دنیا کے ساتھ کھڑا ہے۔ آصف زرادی نے کہا کہ وہ اس قوم کے صدر کے طور پر دنیا کے سامنے کھڑے ہیں جس قوم نے ایک عشرہ تک بدترین آمریت کو بھگتا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ان کے ملک پر آمریت مسلط کی گئی تو دنیا اور خصوصاً وہ طاقتیں مصلحتاً خاموش رہیں جن کی بنیاد ہی جمہوریت پر ہے۔ انہوں نے کہا دہشتگردی کے خلاف اسی صورت ہی جیتی جا سکتی ہے جب لوگوں کو بہتر زندگی گزارنے کے مواقع ملیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ ہے لیکن اس جنگ میں پاکستان کو دنیا کی اخلاقی، معاشی اور فوجی مدد کی ضرورت ہے۔ آصف زرداری نے کہا پاکستان غاروں میں چھپے بے ریاست دہشتگردوں کے خلاف تمام طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا لیکن اگر اس کی سرحدوں کی خلاف ورزیاں اس جنگ میں مدد گار ثابت نہیں ہوگی۔ |
اسی بارے میں یو این کے باہر پختونوں کا احتجاج26 September, 2008 | آس پاس قبائلی علاقوں میں امریکہ کو کارروائی کا حق؟24 September, 2008 | آس پاس ’سرحدیں عبور کرنے کا حق ہے‘24 September, 2008 | آس پاس امریکی فوجیوں کو روکیں گے: صدر24 September, 2008 | پاکستان بش زرداری ملاقات:’فوج کی کارکردگی پرغور‘ 23 September, 2008 | پاکستان قوم ایک ہی پالیسی پر کاربند نظر آئے 24 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||