BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 September, 2008, 14:54 GMT 19:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی امداد، میڈیا کی نظر میں

پاکستان کے بعض اخبارات نے آصف زرداری کے دورہ نیویاک کو کامیاب قرار دیا ہے
پاکستان کے بیشتر اخبارات نے نیویارک میں ہونے والے فرینڈز آف پاکستان کےاس اجلاس کو اپنی شہ سرخی کا موضوع بنایا ہے جس میں پاکستان کی اقتصادی امداد کےلیے کنسورشیم بنانے کا وعدہ کیاگیا ہے۔

اخبارات نے فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس کی خبر کےساتھ ساتھ اس اجلاس کے بارے میں تجزیاتی رپورٹس اور ردعمل کو بھی اخبارات میں نمایاں جگہ دی ہے جبکہ بعض اخبارات کے اداریوں کا موضوع پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب رہا اور کچھ نے پاکستانی صدر کی بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے سے اپنا اداریہ لکھا۔

روزنامہ جنگ کی سرخی کے الفاظ ہیں ’عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو بھر پور اقتصادی امداد دینگے، فرینڈز آف پاکستان کی یقین دہانی ‘ جبکہ انگریزی اخبار ڈان نے اسی اجلاس کی سرخی یوں جمائی ہے ’پاکستان کے ہمددر ممالک نے اس کو اقتصادی بحران سے بچانے کے لیے تجاویز پیش کیں‘۔

روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ’ پاکستان جمہوریت کے حوالے سے امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، چین، سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور جاپان سے مستقل بنیادوں پر اقصادی تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور فرینڈز آف پاکستان کو ایک مستقل ادارہ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

’زرداری صاحب یہ نہ کھپے‘
 نوائے وقت نے زرداری صاحب یہ نہ کھپے کے عنوان سے اپنے اداریہ میں کہا کہ صدر زرداری کو اب ایسے کونسے حالات نظر آ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی، ثفاقتی تعلقات کو استوار کرنا انہوں نے اپنی اوالین ترجیح میں شامل کرلیا ہے۔
روزنامہ نوائے وقت

اسی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ سفارتی حلقوں میں اسے آصف زرداری کے حالیہ دورہ نیویارک کی سب سے اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

اردو روزنامہ ایکسپریس نے صدر آصف علی زرداری کے اقوام متحدہ سے اجلاس کو عکسری اور سفارتی ماہرین کی آراء پرمبنی خبر یوں شائع کی ہے۔’ صدر زرداری کادورہ کامیاب رہا، عوام کو بیوقوف بنایاجا رہا ہے۔‘

اردو روزنامے آج کل نے اپنے ادارے میں کہا کہ صدر آصف زرادری کے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے کیونکہ صدر زرداری نے اپنے خطاب میں پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے سنگین مسئلے کو احسن انداز میں پیش کیا ہے جبکہ انگریزی اخبار دی نیشن نے صدر زرداری کے خطاب پر نکتہ چینی کی اور اخبار لکھتا ہے کہ آصف زرداری کے خطاب کا بڑا حصہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بینظیر بھٹو کے ذکر پر مبنی تھا اور دہشتگردی کے سوا کسی دوسرے مسئلہ پر بات نہیں کی گئی۔

انگریزی اخبار ڈان نے آصف علی زرداری اور منموہن سنگھ کی ملاقات کے بارے میں اپنے اداریہ کا عنوان’ نئی شروعات ‘ رکھا ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ امید ہے کہ زرداری اور منموہن ملاقات ان نقصانات کا ازالہ کرنے میں مددگار ہوگی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چند ماہ میں باہمی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔

اخبار نے دونوں ملکوں کے درمیان چار مقامات سے تجارتی راستے کھونے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا اور کہا اس اعلان پر عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔

اردو اخبار نوائے وقت نے’زرداری صاحب یہ نہ کھپے‘ کے عنوان سے اپنے اداریہ میں کہا کہ صدر زرداری کو اب ایسے کونسے حالات نظر آ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی، ثفاقتی تعلقات کو استوار کرنا انہوں نے اپنی اوالین ترجیح میں شامل کرلیا ہے۔

اخبار کے مطابق پاکستان اور بھارت تجارت کے راستے کھولنے کے عزم کو عملی جامہ پہنایا گیا تو پھر اکھنڈ بھارت کےخواب کی تعبیر کے لیے واہگہ والی لکیر مٹانےاور دیوار برلن کو گرانے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔

پاکستان کے مختلف اخبارت میں صدر آصف علی زرداری کی امریکی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن سے ملاقات کے حوالے سے کارٹون بھی شائع کیے ہیں۔

اسی بارے میں
مشترکہ فوج کی تجویز
23 September, 2008 | آس پاس
صدارتی بحث میں کون جیتا؟
27 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد