BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 September, 2008, 07:40 GMT 12:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھٹو تحقیقاتی کمیشن کامطالبہ

بینظیر بھٹو کی آخری تصویر
دو سینئر پاکستانی سفارت کاروں نے اقوام متحدہ سے تحقیقات کروانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر حسین ہارون نے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا کہا ہے۔

حسین عبد اللہ ہارون نے پیر کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سیکرٹری جنرل کو اپنی اسناد پیش کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انہوں نے سیکرٹری جنرل سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کےلیے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کرنے کے لیے کہا ہے۔

اقوام متحدہ کیطرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اب صرف سیکرٹری جنرل کے حکم پر اقوام متحدہ کر رہی ہے نہ کہ سلامتی کونسل-

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستانی حکومت کی ہی مرضی و مشاورت سے تحققیقاتی کمیشن کا سربراہ اور اراکین مقرر کریں گے- اس تحقیقات کے لیے فنڈز پاکستان کو مہیا کرنے ہیں۔

سندھ اسمبلی کے سابق سپیکر حسین ہارون کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے نۓ مستقل نمائندے کے طور پر تعینات کیاگیا ہے۔

سیکرٹری جنرل نہ کہ سلامتی کونسل
 اقوام متحدہ کیطرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اب صرف سیکرٹری جنرل کے حکم پر اقوام متحدہ کر رہی ہے نہ کہ سلامتی کونسل-

حسین ہارون کے پیشرو اور ایک سینئر سفارتکار منیر اکرم کو بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے بعد ’ریٹائر‘ کر دیا گیا تھا۔

امید کی جا رہی ہے کہ نو منتخب صدر آصف علی زرداری پچیس ستمبر سے امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں جس کے دوران وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت بھی کریں گے

پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کے دور میں دو سینئر سفارت کاروں ، منیر اکرم اور ریاض محمد خان کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔

منیر اکرم اور ریاض محمد خان نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو خط لکھ کرانہیں مشورہ دیا تھا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانا نہ صرف بے سود بلکہ پاکستان کیلیے نقصان دہ ہوگا-

ان دو سفار تکاروں کا موقف تھا کہ اقوام متحدہ سے تحققیقات کروانے سے ایک ’پینڈورا‘ باکس کھل جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کے اہم مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔

سفارت کاروں کے تحفظات
 منیر اکرم اور ریاض محمد خان نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو خط لکھ کرانہیں مشورہ دیا تھا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانا نہ صرف بے سود بلکہ پاکستان کیلیے نقصان دہ ہوگا-

سفارت کاروں کا موقف تھا کہ کہ بینظیر قتل تحقیقات کا معاملہ اگر سکیورٹی کونسل میں پہنچ گیا تو مزید گڑ بڑ ہو سکتی ہےاور سکیورٹی کونسل کے مقرر کردہ تحقیقاتی کمیشن کے اراکین پاکستان میں جس سے بھی پوچھ گچھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں اور جس ادارے میں جانا چاہیں جا سکتے ہیں-

دونوں سفارت کاروں کا موقف تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کلیے فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائيں گے-

اقوام متحدہ نے ابھی تک لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات کروائی ہے جس پر ساڑھے تین سو ملین ڈالر کی رقم خرچ کی جا چکی ہے اور تاحال اس تحقیق کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا ہے۔

پاکستان نے رفیق الحریری کی تحققیات اقوام متحدہ سے کروانے کی مخالفت کی تھی جبکہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ بھی رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات میں دلچسپی رکھتے تھے۔

لبنانی وزیر اعظم کے قتل میں پڑوسی ملک شام پر الزام لگایا جا رہا تھا جبکہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام کسی دوسرے ملک پر نہیں ہے-

اسی بارے میں
بینظیر قتل میں کون ملوث ہے؟
07 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد