بھٹو تحقیقاتی کمیشن کامطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر حسین ہارون نے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا کہا ہے۔ حسین عبد اللہ ہارون نے پیر کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سیکرٹری جنرل کو اپنی اسناد پیش کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انہوں نے سیکرٹری جنرل سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کےلیے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کرنے کے لیے کہا ہے۔ اقوام متحدہ کیطرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اب صرف سیکرٹری جنرل کے حکم پر اقوام متحدہ کر رہی ہے نہ کہ سلامتی کونسل- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستانی حکومت کی ہی مرضی و مشاورت سے تحققیقاتی کمیشن کا سربراہ اور اراکین مقرر کریں گے- اس تحقیقات کے لیے فنڈز پاکستان کو مہیا کرنے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے سابق سپیکر حسین ہارون کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے نۓ مستقل نمائندے کے طور پر تعینات کیاگیا ہے۔
حسین ہارون کے پیشرو اور ایک سینئر سفارتکار منیر اکرم کو بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے بعد ’ریٹائر‘ کر دیا گیا تھا۔ امید کی جا رہی ہے کہ نو منتخب صدر آصف علی زرداری پچیس ستمبر سے امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں جس کے دوران وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت بھی کریں گے پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کے دور میں دو سینئر سفارت کاروں ، منیر اکرم اور ریاض محمد خان کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ منیر اکرم اور ریاض محمد خان نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو خط لکھ کرانہیں مشورہ دیا تھا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانا نہ صرف بے سود بلکہ پاکستان کیلیے نقصان دہ ہوگا- ان دو سفار تکاروں کا موقف تھا کہ اقوام متحدہ سے تحققیقات کروانے سے ایک ’پینڈورا‘ باکس کھل جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کے اہم مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔
سفارت کاروں کا موقف تھا کہ کہ بینظیر قتل تحقیقات کا معاملہ اگر سکیورٹی کونسل میں پہنچ گیا تو مزید گڑ بڑ ہو سکتی ہےاور سکیورٹی کونسل کے مقرر کردہ تحقیقاتی کمیشن کے اراکین پاکستان میں جس سے بھی پوچھ گچھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں اور جس ادارے میں جانا چاہیں جا سکتے ہیں- دونوں سفارت کاروں کا موقف تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کلیے فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائيں گے- اقوام متحدہ نے ابھی تک لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات کروائی ہے جس پر ساڑھے تین سو ملین ڈالر کی رقم خرچ کی جا چکی ہے اور تاحال اس تحقیق کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا ہے۔ پاکستان نے رفیق الحریری کی تحققیات اقوام متحدہ سے کروانے کی مخالفت کی تھی جبکہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ بھی رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ لبنانی وزیر اعظم کے قتل میں پڑوسی ملک شام پر الزام لگایا جا رہا تھا جبکہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام کسی دوسرے ملک پر نہیں ہے- | اسی بارے میں بی بی قتل، تحقیق اقوام متحدہ سے09 May, 2008 | پاکستان بینظیر قتل انکوائری پر بات27 March, 2008 | پاکستان ’بدلہ نہیں، حقائق جاننا چاہتے ہیں‘10 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل میں کون ملوث ہے؟07 February, 2008 | پاکستان اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد، ایک سیاسی حربہ03 January, 2008 | آس پاس اقوامِ متحدہ سے تحقیقات کا اعلان 22 May, 2008 | پاکستان بینظیر قتل: ایک ملزم کا چالان پیش05 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||