بینظیر قتل: ایک ملزم کا چالان پیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی راولپنڈی پولیس نے منگل کے روزاس مقدمے میں گرفتار ہونے والے اعتزاز شاہ کا علیحدہ چالان بنا کر عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ ملزم کے وکیل نے عدالت میں پہلے ہی سے درخواست دائر کر رکھی تھی جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اُن کا موکل کم عمر ہےاور اس کو جب گرفتار کیا گیا تھا تو اُس وقت اُس کی عمر سولہ سال تھی لہذا اُس کی سماعت دیگر ملزمان سے علیحدہ کی جائے۔ جس پر اس مقدمے کی سماعت کرنے والے انسداد دہشت گردی کے جج حبیب الرحمن نے ڈاکٹروں کا ایک کمیشن مقرر کیا تھا جس نے یہ طے کرنا تھا کہ آیا ملزم اعتزاز شاہ کی عمر کم ہے یا نہیں۔ ڈاکٹروں کی رپورٹ کے بعد عدالت نے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو حکم دیا تھا کہ مذکورہ ملزم کا علیحدہ چالان بنا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔ واضح رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اعتزاز شاہ کو اس سال فروری کے آخر میں صوبہ سرحد کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کیا تھا اور تفتیش کے دوران ملزم کے انکشافات کی روشنی میں دیگر چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا ان میں صوبہ سرحد سے شیر زمان اور مولوی امتیاز جبکہ راولپنڈی سے محمد رفاقت اور حسنین گل کو گرفتار کیا گیا۔ ان مذکورہ چار ملزمان کا چالان پہلے ہی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے اور ان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے تاہم ابھی تک اس مقدمے میں شہادتیں قلمبند نہیں ہوئیں۔ ان ملزمان کو بھی منگل کے روز پولیس کے سخت پہرے میں عدالت میں پیش کیا گیا تاہم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سرکاری وکیل کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی بنا پر اس مقدمے کی سماعت چھ ستمبر تک ملتوی کر دی۔ بےنظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار ہونے والے محمد رفاقت اور حسنین گل کو پولیس نے گذشتہ سال تھانہ آر اے بازار کی حدود میں پاکستانی فوجیوں کو خودکش حملے کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں بھی نامزد کیا ہے۔ واضح رہے کہ بےنظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم نے قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کو اس مقدمے میں ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مذکورہ قبائلی شدت پسند کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اُن کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اس کے علاوہ اُن کی جائیداد کی قُرقی کے احکامات بھی دیئے تھے۔ قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود اس الزام کی بارہا تردید کرچکے ہیں کہ وہ بےنظیر بھٹو قتل کیس میں ملوث ہیں۔ ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس واقعہ کے دو روز بعد ہی وزارت داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ نے ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے ایک ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کی ہے جس میں بیت اللہ محسود اور اُن کا ایک ساتھی بےنظیر بھٹو قتل پر ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے بےنظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے یو این کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو ایک درخواست بھی دی ہے۔ | اسی بارے میں ’ہم جیے بھٹو کہے جائیں گے‘06 April, 2008 | پاکستان بھٹو کی برسی اور بدلتے سیاسی رنگ04 April, 2008 | پاکستان بینظیر قتل میں کون ملوث ہے؟07 February, 2008 | پاکستان متحدہ بھی یو این تحقیقات کی حامی31 January, 2008 | پاکستان وصیت جاری کرنا لازمی نہیں: زرداری31 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||