’امریکہ سے معاہدے ختم کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں پیپلز پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے اور وزیراعظم کے اختیارات بحال کرنے کے لئے آئین کی سترہویں ترمیم کو ختم کرنے کا اعلان کریں۔ قائد حزب اختلاف نے صدر مملکت سے مطالبہ کیا کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے لئے سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے ختم کرنے کا اعلان کریں۔ ’اس حوالے سے مشرف دور کی کہانیاں نہ دہرائی جائیں۔‘ قائد حزب اختلاف مقرر ہونے کے بعد پہلی پریس کانفرنس سے خطاب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا ’صدر مشرف کی طرح آصف زرداری بھی ایک سے زیادہ عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جس سے جمہوری روایات کی نفی ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان کے طاقتور ترین صدر ہیں بلکہ ملک کے اصل حکمران بھی وہی ہیں۔ اسکے ساتھ پیپلز پارٹی کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔‘ چوہدری نثار نے امید ظاہر کی کہ آصف زرداری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پارٹی سربراہی سے استعفٰی دے کر یہ ثابت کریں کہ وہ ایک پارٹی کے نہیں بلکہ پورے ملک کے صدر ہیں۔ چوہدری نثار نے کہا کہ انکی جماعت نے ’صدر مشرف کے خلاف جن معاملات پر اتنی طویل جدو جہد کی وہ آج بھی اسی طرح موجود ہیں اور اٹھارہ فروری کو عوام نے جس تبدیلی کے لیے ووٹ دیے تھے اسکے رونما ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی حملے ہو رہے ہیں اور صدر آصف زرداری نے اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ چوہدری نثار نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ حکومت کے دور میں امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے ختم کر کے حکومت نئی پالیسی تشکیل دے۔
چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اسی طرح صدر مشرف کے دور میں بھی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ججوں کی تقرری اور برطرفی ہوتی تھی اور آج بھی نام نہاد نائیک فارمولے کے تحت اپنی پسند کے ججوں کو بحال کیا جا رہا ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ انکے قائد حزب اختلاف مقرر ہونے کے بعد ’مسلم لیگ ن با ضابطہ طور پر حزب اختلاف کا حصہ بن چکی ہے اور اب حکومت کو اس سابق حلیف جماعت کی غیر مشروط حمایت حاصل نہیں رہی۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد ان ایشوز کا اعلان کریں گے جن پر حکومت کو ان کی ہمہ وقت حمایت حاصل رہے گی۔ ان میں ممکنہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پالیسی کی حمایت شامل ہوگی جبکہ دیگر تمام سیاسی معاملات پر موقع کی مناسبت سے اپنا جمہوری موقف اختیار کرنے میں انکی جماعت آزاد ہوگی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انکی جماعت اس موقف پر قائم ہے کہ ’اس حکومت کو چھوٹے گروپوں کی بلیک میلنگ سے بچائیں گے اور اسے غیر مستحکم کرنے کی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘ پارلیمنٹ سے صدر مملکت کے خطاب کے دوران حزب اختلاف کی حکمت عملی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر چوہدری نثار نے کہا کہ حزب اختلاف خطاب کے دوران جمہوری رویہ اختیار کرے گی۔ | اسی بارے میں مسلم لیگی وزراء کے استعفے منظور13 September, 2008 | پاکستان اتحاد میں واپسی نہیں، نواز شریف08 September, 2008 | پاکستان ’آصف سب کو ساتھ لیکر چلیں‘06 September, 2008 | پاکستان ’یہ اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے‘03 September, 2008 | پاکستان نواز شریف سے معذرت: زرداری25 August, 2008 | پاکستان حکمراں اتحاد، کب کیا ہوا25 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||