BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 September, 2008, 07:29 GMT 12:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اتحاد میں واپسی نہیں، نواز شریف

میاں نواز شریف آصف زرداری
ملاقات میں وزیراعظم اور وزیراعلٰی پنجاب بھی شریک ہوئے

پیپلزپارٹی کی سابق حلیف جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور نو منتخب صدر آصف علی زرداری کی جانب سے حکومتی اتحاد اور وفاقی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کی دعوت قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

آصف زرداری نے نواز شریف کو یہ پیشکش ایک ملاقات میں کی۔ نواز شریف آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دینے کے لیے سوموار کے روز لاہور سے خصوصی طور پر اسلام آباد آئے اور ایوان وزیراعظم میں دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان مختصر رسمی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔

حکومتی اتحاد سے مسلم لیگ(ن) کی علیحدگی کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری کی یہ پہلی باقاعدہ ملاقات تھی جو ماضی کے مقابلے میں خاصی مختصر رہی۔

ملاقات میں موجود مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ اس ملاقات میں طویل سیاسی تبادلہ خیال نہیں ہوا البتہ نو منتخب صدر نے میاں نواز شریف کو حکومتی اتحاد میں دوبارہ شامل ہونے کی دعوت دی۔

احسن اقبال کے مطابق آصف زرداری نے سابق مسلم لیگی وزرا کو بھی وفاقی کابینہ کا دوبارہ حصہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر نواز شریف نے معذرت کر لی۔

 نوازشریف نے نو منتخب صدر پاکستان کو بتایا کہ ان کی جماعت حزب اختلاف میں بیٹھ کر بھی مثبت اور تعمیری سیاست کرے گی اور یہ کہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کے اصرار کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ مسلم لیگ اس نظام سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔

احسن اقبال کے مطابق نواز شریف نے آصف زرداری کو بتایا کہ وہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کے ذریعے پارلیمنٹ اور ایوان صدر کے درمیان طاقت کے توازن کی بحالی اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے حکومت سے غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

نوازشریف نے نو منتخب صدر پاکستان کو بتایا کہ ان کی جماعت حزب اختلاف میں بیٹھ کر بھی مثبت اور تعمیری سیاست کرے گی اور یہ کہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کے اصرار کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ مسلم لیگ اس نظام سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت اس نظام کا حصہ رہتے ہوئے حکومت کی مدد کرتی رہے گی۔ ان کے مطابق ملاقات میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور ان کے بعض متنازعہ بیانات بھی زیرِ بحث آئے۔

ایوان وزیراعظم میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی اور وفاقی کابینہ کے بعض ارکان بھی موجود تھے جبکہ مسلم لیگی وفد میں نواز شریف کے علاوہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف، پارٹی چیئرمین راجہ ظفر الحق، سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا، سینیٹر اسحٰق ڈار، رکن قومی اسمبلی چوہدری نثار علی خان، سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اور بعض دیگر راہنما بھی شامل تھے۔

دریں اثناء بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے بتایا ہے کہ میاں نواز شریف صدِر پاکستان کی تقریبِ حلف برداری میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں لندن روانہ ہونا ہے جہاں ان کی شریک حیات بیگم کلثوم نواز زیرعلاج ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تقریب میں مسلم لیگ(ن) کی نمائندگی وزیراعلیٰ پنجاب اور پارٹی صدر میاں شہباز شریف کریں گے۔

اخباراتاخبارات کی رائے
صدر زرداری: پاکستانی اخبار کیا کہتےہیں؟
شجاعت حسین(ق) لیگ کا نقصان
انتخابات میں مسلم لیگ(ق) کے حامی کدھر گئے
جیالوں کا جشنزرداری کی جیت
ملک میں بھر میں پی پی پی کارکنوں کا جشن
اُدھر بھائی، اِدھر بہن
بلاول بھٹو لاڑکانہ، بختاور زرداری نوابشاہ
بختاورپارلیمان میں نعرے
اسمبلی میں نتائج کے اعلان سے قبل نعرہ بازی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد