اتحاد میں واپسی نہیں، نواز شریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلزپارٹی کی سابق حلیف جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور نو منتخب صدر آصف علی زرداری کی جانب سے حکومتی اتحاد اور وفاقی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کی دعوت قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ آصف زرداری نے نواز شریف کو یہ پیشکش ایک ملاقات میں کی۔ نواز شریف آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دینے کے لیے سوموار کے روز لاہور سے خصوصی طور پر اسلام آباد آئے اور ایوان وزیراعظم میں دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان مختصر رسمی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ حکومتی اتحاد سے مسلم لیگ(ن) کی علیحدگی کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری کی یہ پہلی باقاعدہ ملاقات تھی جو ماضی کے مقابلے میں خاصی مختصر رہی۔ ملاقات میں موجود مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ اس ملاقات میں طویل سیاسی تبادلہ خیال نہیں ہوا البتہ نو منتخب صدر نے میاں نواز شریف کو حکومتی اتحاد میں دوبارہ شامل ہونے کی دعوت دی۔ احسن اقبال کے مطابق آصف زرداری نے سابق مسلم لیگی وزرا کو بھی وفاقی کابینہ کا دوبارہ حصہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر نواز شریف نے معذرت کر لی۔ احسن اقبال کے مطابق نواز شریف نے آصف زرداری کو بتایا کہ وہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کے ذریعے پارلیمنٹ اور ایوان صدر کے درمیان طاقت کے توازن کی بحالی اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے حکومت سے غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ نوازشریف نے نو منتخب صدر پاکستان کو بتایا کہ ان کی جماعت حزب اختلاف میں بیٹھ کر بھی مثبت اور تعمیری سیاست کرے گی اور یہ کہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کے اصرار کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ مسلم لیگ اس نظام سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت اس نظام کا حصہ رہتے ہوئے حکومت کی مدد کرتی رہے گی۔ ان کے مطابق ملاقات میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور ان کے بعض متنازعہ بیانات بھی زیرِ بحث آئے۔ ایوان وزیراعظم میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی اور وفاقی کابینہ کے بعض ارکان بھی موجود تھے جبکہ مسلم لیگی وفد میں نواز شریف کے علاوہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف، پارٹی چیئرمین راجہ ظفر الحق، سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا، سینیٹر اسحٰق ڈار، رکن قومی اسمبلی چوہدری نثار علی خان، سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اور بعض دیگر راہنما بھی شامل تھے۔ دریں اثناء بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے بتایا ہے کہ میاں نواز شریف صدِر پاکستان کی تقریبِ حلف برداری میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں لندن روانہ ہونا ہے جہاں ان کی شریک حیات بیگم کلثوم نواز زیرعلاج ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تقریب میں مسلم لیگ(ن) کی نمائندگی وزیراعلیٰ پنجاب اور پارٹی صدر میاں شہباز شریف کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||