پاکستانی اخبارات کی رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کم و بیش تمام اخبارات نے آصف علی زرداری کے صدر منتخب ہونے کی خبر کو اپنی شہ سرخی بنایا ہے۔ اخبارات کے اداریوں اور بیشتر کالموں کا موضوع بھی آصف زرداری کی صدارتی عہدے پر کامیابی رہا۔ اگرچہ اخبارات نے آصف علی زرداری کی کامیابی کے لیے اپنی شہ سرخیوں کے لیے جو الفاظ چنے وہ کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں تاہم انگریزی روزنامہ ڈان اور اردو اخبار آج کل نے کچھ ہٹ کر سرخیاں جمائیں۔ ڈان اخبار کی آٹھ کالم سرخی ہے کہ ’تمام نگاہیں آصف زرداری پر‘ جبکہ آج کل کی سرخی ہے ’جمہوریت کا انتقام: کل کا قیدی آج کا صدر‘۔
اسی اخبار میں سنگل کالم خبر شائع ہوئی جس کا عنوان ہے کہ ’خاتون اوّل کا عہدہ خالی رہے گا‘۔ اخبارات میں جہاں پنجاب میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے بارے میں آئندہ کے سیاسی منظر نامے پر تجزیاتی خبریں شائع ہوئیں وہیں سابق حکمران مسلم لیگ ق کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خبریں بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔ مسلم لیگ ق کے حوالے سے روزنامہ جنگ کی ایک خبر ہے کہ ’صدراتی انتخاب قومی اور پنجاب اسمبلی اور سینیٹ میں ق لیگ کی اپوزیشن حیثیت ختم‘۔ بعض اخبارات نے آصف زرداری کی بیٹیوں اور بہن کی تصویر شائع کی ہے جس میں پارلیمان میں آصف زرداری کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کر رہی ہیں جبکہ بعض اخبارات اس تصویر کو فوقیت دی ہے جس میں آصف علی زرداری وزیر اعظم ہاؤس میں تقریر کررہے ہیں اور ان کی بیٹیاں ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔
اخبارات نے آصف زرداری کے صدر منتخب پر اپنے اپنے انداز میں کارٹون بھی شائع کیے ہیں۔ اخبارات نے جو اداریے لکھے ہیں ان میں مسائل کے تذکرے کے ساتھ حل کے لیے ان کی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت نے آصف علی زرداری کی کامیابی اور آزمائش کے عنوان سے اداریہ لکھا ہے کہ اگر حکمران اتحاد قائم رہتا تو توقع کی جارہی تھی کہ دونوں جماعتیں مل کر معاملات چلائیں گے اور ملک و قوم کو جو مسائل درپیش ہیں انہیں اتفاق رائے سے حل کریں گی مگر مسلم لیگ نون کی اتحاد سے علیحدگی کے بعد پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ حلف کے بعد زرداری سب سے پہلے اپنے وعدے کے مطابق سترھویں ترمیم کو ختم کریں۔ اداریہ میں کہا گیا کہ آصف زرداری کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت معزول ججوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ وہ ان ججوں سے خائف ہیں یا پرویز مشرف کی طرح مرضی کی عدالت چاہتے ہیں۔
روزنامہ ایکسپریس نے اپنے اداریے میں آصف زرداری کو باور کرایا کہ ان کے صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی پارٹی کی حکومت کے راستے میں بظاہر اب کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے اور ان کے صدر بننے کے بعد قوام کی ان سے وابستہ توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ روزنامہ ڈیلی ٹائمز میں معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے اپنے کالم میں آصف زرداری کو درپیش مسائل کا ذکر کیا ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ زرداری کا اصل کام فوجی قیادت اور سیاسی حکومت کےدرمیان ربط قائم کرناہے۔ دی نیوز نے اپنے ادارے میں کہا کہ ملک کو آج جن مسائل کا سامنا ہے ان کو حل کرنا کوئی آسان کام نہیں تاہم آصف زرداری ساسی جماعتوں کے ساتھ افہام تفیم اور اتفاق رائے پیدا کرکے ان مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں انتخابات میں مسلم لیگ(ق) کا نقصان07 September, 2008 | پاکستان ’صدر کی حلف برداری منگل کو‘07 September, 2008 | پاکستان صدارت زرادی کا امتحان ہے :قاضی07 September, 2008 | پاکستان ’تاریخی فتح سے مشکل سفر کا آغاز‘06 September, 2008 | پاکستان لاہور میں پی پی پی کارکنوں کا جشن07 September, 2008 | پاکستان قومی اسمبلی، نتائج سے قبل ہی خوشیاں06 September, 2008 | پاکستان آصف علی زرداری کون؟06 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||