’تاریخی فتح سے مشکل سفر کا آغاز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کے صدر منتخب ہونا مسائل کے حل کی طرف ایک تاریخی سفر کا آغاز ہے ۔ جبکہ جماعت اسلامی اور وکلاء کے مطابق ملک میں مکمل جمہوریت اس وقت ہوگی جب معزول چیف جسٹس کو بحال کیا جائے گا۔ اتوار کے روز پیپلز پارٹی کی رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے کے بعد سالوں سے پارلیمان اور ایوان صدر کے درمیان جاری تصادم ختم ہو جائے گا۔ جبکہ آج کا انتخابی عمل آئین اور قانون کے مطابق ہوا ہے اور یہ ہی عوام کی فتح ہے انہوں نے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کو فتح کو ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش تمام مسائل کو ایک دن میں حل نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن آج کا دن مسائل کے حل کی طرف ایک تاریخی سفر کی شروعات ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما سینیٹر ظفر اقبال جھگڑا نے کہا ہے آج کا دن ملک کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ آٹھ سال کے بعدجمہوری پارلیمنٹ مکمل ہوئی ہے اور اس پر وہ پاکستانی عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب کا مرحلہ بہت اچھے طریقے سے طے ہوا ہے اور اس عمل سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وکلاء تحریک کے ایک رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں لیکن جمہوریت کا عمل اس وقت مکمل ہو گا جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی خود یہ کہتی ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف انہوں نے زیادہ جدوجہد اور قربانیاں دی ہیں لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ مشرف کی باقیات کو ابھی تک کیوں برقرار رکھا جا رہا ہے ۔جو ایک تکلیف دہ بات ہے ۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے مطابق تین نومبر دو ہزار سات سے پہلے والی عدلیہ کو بحال نہ کرنا آنے والے دنوں میں آصف علی زرداری کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہو گا۔ مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کے کسی ارکان نے آصف زرداری کی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب وہ صرف سندھ کی سیاست کریں بلکہ انہیں پورے ملک کے صدر کے طور پر کام کرنا ہو گا۔ متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما فاروق ستار کے مطابق صدارتی انتخاب کے بعد ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے محاذا آرائی کی سیاست کی بجائے تمام جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔انہوں نے مسلم لیگ نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزامات کی سیاست کی بجائے اصلاحات کی طرف توجہ دی جائے اور ترجیحات کو درست رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں امن وامان ، نوجوانوں کو روز گار اور چھوٹے صوبوں کو خود مختاری نہیں دی جائے گی تب تک جمہوری عمل مضبوط اور مستحکم نہیں ہو سکےگا۔ جماعت اسلامی کے امیر اور اٹھارہ فروری کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے سیاسی اتحاد اے پی ڈی ایم کے رہنما قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ آصف زرداری سے عوام اب یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اوپر لگے کرپشن کےالزامات کا جواب دیں گے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کی آزمائش شروع ہو گئی ہے کہ ملک میں امریکی مداخلت اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال ، معاشی بحران اور مہنگائی کو کیسے ختم کیا جاتا ہے۔ قاضی حسین احمد کے مطابق آصف زرداری کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے حاصل کردہ غیر آئینی اختیارات جس میں سترہویں آئینی ترمیم سے دستبردار اور معزول چیف جسٹس کو بحال کرنا ہو گا ورنہ ایک دن عوام سابقِ صدر مشرف کی طرح ان کے خلاف احتجاج کرتی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو مبارکباد اس وقت دی جا سکتی ہے جب وہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے عملی طور پر کچھ کریں گے۔ واضع رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربرا عمران خان نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں آصف علی زرداری کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف ایک جلوس نکالا تھا۔ | اسی بارے میں ’آصف سب کو ساتھ لیکر چلیں‘06 September, 2008 | پاکستان قومی اسمبلی، نتائج سے قبل ہی خوشیاں06 September, 2008 | پاکستان بیمار رکن سٹریچر پر ووٹ ڈالنے پہنچ گئیں06 September, 2008 | پاکستان صدارتی انتخاب میں ووٹنگ جاری06 September, 2008 | پاکستان صدر کے انتخاب میں ووٹ کا حق کس کو؟05 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||