صدارتی انتخاب میں ووٹنگ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نئے صدر مملکت کے انتخاب کے لیے آج ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور شام تک نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ صدر کے عہدے کے لیے تین امیدوار میدان میں ہیں: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئر پرسن عاصف علی زرداری، مسلم لیگ نواز کے جسٹس رٹائرڈ سعید الزمان صدیقی اور مسلم لیگ ق کے مشاہد حسین۔ لیکن عام خیال یہ ہی ہے کہ مسٹر زرداری بہ آسانی منتخب ہوجائیں گے۔ وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کا دعویٰ ہے کہ ان کے امیدوار آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے اور انہیں پانچ سو صدارتی ووٹ ملیں گے۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق پولنگ صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک جاری رہے گی اور پولنگ ختم ہونے کے بعد نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے لیے پولنگ قومی اسمبلی کے ہال میں ہوگی جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اپنی اپنی اسمبلی میں منعقد پولنگ میں ووٹ ڈالیں گے۔
صدر کے انتخاب کا جو الیکٹورل کالج ہے اس کے کل ووٹوں کی تعداد گیارہ سو ستر بنتی ہے لیکن صدارت انتخاب میں ووٹوں کی گنتی کا جو فارمولا ہے اس کے مطابق کل صدارتی ووٹ سات سو دو بنتے ہیں۔ ادھر مظفر آباد سے نامہ نگار ذولفقار علی کے مطاق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مسٹر آصف علی زرداری کے حق میں ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مخالف حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اراکین نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی پاکستان کے صدر کے انتخابی کالج کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم حزب مخالف اور حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد اخلاقی حمایت دینے کے لیے منطور کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کے خلاف جمعہ کو پریس کلب سے پارلیمنٹ لاجز تک احتجاجی جلوس نکالا۔ پارٹی کے سربراہ عمران خان نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری صدر منتخب ہونے کے بعد این ار آو بچانے کے لیے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال نہیں کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت آصف زرداری کو صدر بنانے کے جرم میں شریک نہیں ہو گی کیونکہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی عدلیہ اور سترہویں آئینی ترمیم کی موجودگی میں وہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے بھی طاقتور صدر بن جائیں گے۔ | اسی بارے میں صدراتی انتخاب، کاغذات جمع26 August, 2008 | پاکستان ’صدر کا کردار علامتی ہونا چاہیے‘25 August, 2008 | پاکستان آصف زرداری صدر بننے پر رضامند23 August, 2008 | پاکستان صدر کا انتخاب چھ ستمبر کو22 August, 2008 | پاکستان ’صدرآصف زردی ‘ مہم شروع21 August, 2008 | پاکستان ’صدر کے خطاب کی تیاریاں مکمل‘ 18 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے خطاب کا متن18 August, 2008 | پاکستان صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع18 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||