BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2008, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیمار رکن سٹریچر پر ووٹ ڈالنے پہنچ گئیں

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
رقیہ سومرو نے سٹریچر پر لیٹے لیٹے ہی اپنا ووٹ ڈالا
سندھ اسمبلی کی ایک خاتون رکن کو صدارتی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے سٹریچر پر سندھ اسمبلی لایا گیا جہاں ان کا استقبال ان کے ساتھی ارکان نے والہانہ انداز میں کیا۔

پیپلزپارٹی کی رقیہ سومرو کو گھٹنوں کا مرض ہے اور ان کا آپریشن چند روز قبل ایک مقامی ہسپتال میں کیا گیا ہے جہاں وہ داخل ہیں۔ ڈاکٹروں نے ابھی انہیں بستر سے اٹھنے سے بھی منع کیا ہے تاہم وہ اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے سٹریچر پر سندھ اسمبلی پہنچیں۔

جیسے ہی ان کو سٹریچر پر اٹھائے افراد اسمبلی ہال میں داخل ہوئے تو ارکان اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور ڈیسک بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی اور پھر فوراً ہی ہال ’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔

رقیہ سومرو نے سٹریچر پر لیٹے لیٹے ہی اپنا ووٹ ڈالا اور پریذائیڈنگ افسر اپنی سیٹ سے اٹھ کر ان کا ووٹ ڈلوانے ان کی مدد کرنے ان کے پاس آئے۔

ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کی قائد بے نظیر بھٹو جمہوریت کے لیے اپنی جان قربان کر سکتی ہیں تو وہ اس حالت میں ووٹ ڈالنے کیوں نہیں آ سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہسپتال کے بستر سے جمہوریت کی سربلندی کے لیے ووٹ ڈالنے آئی ہیں۔

صدارتی انتخابات کے لیے سندھ اسمبلی میں سنیچر کو پولنگ صبح دس بج کر دس منٹ پر شروع ہوئی اور پہلا ووٹ پاکستان پپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے عبدالحق بھرٹ نے ڈالا۔ سندھ اسمبلی میں جسٹس انور ظہیر جمالی کو پریذائیڈنگ افسر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

ایوان میں کل ایک سوچھیاسٹھ ارکان ہیں جن میں ترانوے پپلزپارٹی، اکاون متحدہ قومی مومنٹ تین نیشنل پپلزپارٹی، دو عوامی نیشنل پارٹی، قاف لیگ کے نو، مسلم لیگ فنکشنل کے آٹھ شامل ہیں جن میں سے امکان ہے کہ گیارہ ارکان انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

قاف لیگ کے نو ارکان میں تین فارورڈ بلاک میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ دو مزید ارکان نے آصف زرداری کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور اس طرح سندھ اسمبلی میں فنکشنل اور قاف لیگ کے کل گیارہ ارکان انتخابات سے دور رہیں گے۔

سندھ اسمبلی میں اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ آصف زرداری کی مخالفت میں ووٹ ڈالے جائیں۔

اسی بارے میں
صدارتی انتخاب میں ووٹنگ جاری
06 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد