صدارت زرادی کا امتحان ہے :قاضی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے نومنتخب صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار اٹھاون ٹو بی کو ختم کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین نے آصف زرداری کے صدر بننے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ’آصف علی زرداری صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد ایک امتحان میں پڑگئے ہیں اور اگر وہ اس امتحان میں کامیاب نہ ہوئے تو نہ صرف ان کی ذات بلکہ ان کی جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی سرزمین پر حملے ہورہےہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا آصف علی زرداری سابق صدر پرویزمشرف کی پالیسی کو جاری رکھیں گے یا امریکہ کے ساتھ شدت پسندی کی جنگ کے معاملے پر نظرثانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری پرویز مشرف کی جگہ بیٹھ کر ملک کی مضبوط شخصیت تو بن گئے ہیں لیکن اس منصب کے کچھ تقاضے ہیں اور انہیں وعدے کے مطابق اس دستور کو بحال کرنا چاہیے جو اکتوبر ننانوے میں پرویز مشرف کی مداخلت سےپہلے موجود تھا۔ ان کے بقول دستور کو بارہ اکتوبر ننانوے سے پہلے کی حالت پر بحال کرنے سے سترہویں ترمیم کا مسئلہ بھی حل ہو جائےگا۔
قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ عوام توقع رکھتے ہیں کہ آصف علی زرداری اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار یعنی اٹھاون ٹو بی سے دستبردار ہوجائیں اور اس کے لیے بقول ان کے نئی ترمیم لانے کی ضرورت نہیں ہے بس دستور کر ننانوے کی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے امیر نےکہا کہ عوام یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس خلیل رمدے کو ان کی سابقہ حیثیت سے بحال کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آصف زرداری امتحان میں پورے اترتے ہیں تو قوم ان کو مبارک باد دے گی اور اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو اس سے ان کی پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے آصف زرداری کے صدارتی امیدوار ہونے کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صدارتی چناؤ سے ایک دن پہلے احتجاجی ریلی نکالی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اٹھاون ٹو بی اور سترھویں ترمیم کو ختم کریں۔ان کا کہنا ہے کہ این آر او جس کے تحت آصف زرداری نے اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات کوختم کیا ہے اس قانون کو مخصوص افراد محدور نہ رکھا جائے بلکہ اس کے دائرہ کار کو بڑھا دیا جائے تاکہ ان غریب لوگوں کو بھی فائدہ ہو جو غربت اور افلاس کی وجہ سے چند کلو آٹا چوری کرنے پر جیل کی سلاخوں کی پیچھے چلے جاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’صدر کی حلف برداری منگل کو‘07 September, 2008 | پاکستان ’تاریخی فتح سے مشکل سفر کا آغاز‘06 September, 2008 | پاکستان لاہور میں پی پی پی کارکنوں کا جشن07 September, 2008 | پاکستان زرداری بھاری اکثریت سے صدر منتخب06 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||