انتخابات میں مسلم لیگ(ق) کا نقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عام انتخابات کے بعد اب صدارتی انتخاب نے جس سیاسی جماعت کو سب سے زیادہ بری طرح متاثر کیا ہے وہ چوہدری بردران کی مسلم لیگ (قاف) ثابت ہوئی ہے۔ سابق حکمران اور ’کنگ میکر’ جماعت کی شاید صدارتی امیدوار کھڑا کرکے کوشش ہی یہ تھی کہ وہ بازار کا بھاؤ معلوم کرنا چاہتی تھی۔ اب اس پر واضع ہوگیا ہے کہ حالت کوئی زیادہ اچھی نہیں ہے۔ چوہدری شجاعت حسین سے کسی نے صدارتی انتخاب کے بعد دریافت کیا کہ آیا آپ ان اراکین کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں جنہوں نے دوسری جماعت کے امیدوار کو ووٹ دیا تو ان کا انتہائی معصومانہ انداز میں کہنا تھا کہ انہیں فکر ان کی زیادہ ہے جنہوں نے پارٹی ڈسپلن کا احترام کیا۔ ’ان کا خیال رکھنا ہے، کہیں وہ بھی نہ چلے جائیں۔‘
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ق لیگ کے اراکین کی تعداد چورانوے بنتی ہے۔ لیکن مشاہد حسین کو صرف چونتیس ووٹ ملے۔ بعض اندازوں کے مطابق ق لیگ کے اٹھائیس اراکین قومی اسمبلی نے اپنے امیدوار کی بجائے آصف علی زرداری کو جبکہ مزید تین نے نون لیگ کے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کو اپنے امیدوار سے بہتر سمجھا اور اسے ووٹ دیے۔ تقریباً یہی صورتحال ایوان بالا میں بھی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس طرح ق لیگ کے دو تہائی اراکین نے پارٹی ڈسپلن سے انحراف کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد پارلیمان میں چھیانوے ہے تاہم جسٹس سعید الزماں کو ایک سو گیارہ ووٹ ملے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں ق یا آزاد اراکین میں سے بھی چند نے ووٹ دیے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی استطاعت سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ اگر کسی نے نقصان برداشت کیا تو وہ ق لیگ ہی تھی۔ اسے سب سے زیادہ نقصان ایوان بالا میں بظاہر برداشت کرنا پڑا ہے جہاں اسے کے ساٹھ اراکین ہونے کے باوجود مشاہد حسین دونوں ایوان کے ووٹ ملا کر بھی محض چونتیس ووٹ ہی حاصل کر سکے۔
پنجاب اسمبلی میں تو اٹھارہ فروری کے بعد سے ق لیگ میں توڑ پھوڑ جاری تھی۔ لیکن اب اس انتخاب کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں قاف کے فاروڈ بلاک کے اراکین نے نون لیگ کے حق میں ووٹ دیا۔ لہذا پنجاب میں اب بھی اگر وفاداری تبدیل ہوئی ہے تو ایک لیگ سے دوسری کی جانب۔ اس سے شاید پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کی سوچ رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو بھی اشارے ملے ہیں کہ وہ فی الحال ایسی کوششوں کو ترک کر دیں تو بہتر ہوگا۔ ق لیگ کے اراکین کی جانب سے مخالف جماعت کے امیدواروں کو اپنی حمایت کے اشارے انتخاب سے کافی پہلے سے دکھائی دے رہے تھے۔ وزیر اعظم سے ایک ملاقات میں سینٹ کے قائم مقام سربراہ جان محمد جمالی سمیت آٹھ اراکین پارلیمان نے پہلے ہی آصف علی زرداری کو کھلم کھلا حمایت کی یقین دہانی کرا دی تھی۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کی ایک تقریب میں ق لیگ کے چالیس اراکین کی شرکت سے بھی صورتحال واضع ہوگئی تھی۔ خیال ہے کہ کئی ارکان نے خفیہ ملاقاتوں میں بھی انہیں ایسی ہی یقین دہانی کرائی تھیں۔ ایسے میں چوہدری شجاعت کے یہ بات وزن دار محسوس ہوتی ہے کہ تمام تر مخالفت اور لالچ کے باوجود جو اراکین ان کے ساتھ اس مشکل وقت میں کھڑے رہے انہیں مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اٹھارہ فروری کے انتخابات اور صدر مشرف کے اٹھارہ اگست کے استعفے کے بعد جو سابق کنگز پارٹی کو دھچکے لگے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے جلد کنگال پارٹی بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ | اسی بارے میں صدارتی انتخابات اور قاف لیگ کی سیاست30 August, 2008 | پاکستان مشرف کا کوئی کردار نہیں: مشاہد31 August, 2008 | پاکستان ’مخلوط حکومت پر قائم ہیں‘02 September, 2008 | پاکستان ’صدارت سندھ کا حق ہے‘22 August, 2008 | پاکستان فاروق ستار کی جگہ اب پرویز الہی 22 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||