BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 August, 2008, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کا کوئی کردار نہیں: مشاہد

مشاہد حسین مسلم لیگ قاف کی طرف سے صدارتی امیدوار ہیں
پاکستان مسلم لیگ قاف کے صدارتی امیدوار مشاہد حسین نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کا ان کی جماعت میں اب کوئی کردار نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو اپنے کراچی کے دورے کے دوران کہی۔ وہ مسلم لیگ قاف کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے ساتھ کراچی پہنچے اور ان کے دورے کا مقصد بظاہر دیگر جماعتوں سے چھ ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لئے حمایت حاصل کرنا ہے۔

کراچی پہنچنے کے بعد وہ سب سے پہلے جتوئی ہاؤس گئے جہاں انہوں نے نیشنل پیپلزپارٹی کے مرتضٰی جتوئی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ ’پاکستان پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی ان سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھ ستمبر کو صدارتی انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوں گے اور ووٹ ایک امانت ہوتا ہے اور وہاں جمعہ بازار نہیں لگا ہوا ہے، ہمارے باکردار لوگ ہیں اور چھ ستمبر کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا‘

سابق صدر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’سابق صدر پرویز مشرف گھر جاچکے ہیں، اب پرویز مشرف کا مسلم لیگ قاف میں کوئی کردار نہیں ہے، ویسے بھی ان پر سیاست میں حصہ لینے کے حوالے سے دو سال کی قدغن ہے اور ان کا سیاسی مستقبل مسلم لیگ قاف کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ہے۔‘

مشاہد حسین اور چودھری شجاعت حسین جتوئی ہاؤس سے پیرپگارا کی رہائش گاہ گئے اور پیر پگارا سے ملاقات کی۔ وہاں سے وہ رات کو متحدہ قومی مومنٹ کے صدر دفتر نائن زیرو گئے جہاں انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنماؤوں سے ملاقات کی۔

دوسری جانب مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال بھی اتوار کو کراچی کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دوبارہ پپلزپارٹی کو مشورہ دیا کہ جس طرح حکمراں اتحاد سے علیحدگی کے بعد مسلم لیگ نواز نے مرکز میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی حزبِ اختلاف کا مثبت کردار ادا کرے۔

احسن اقبال کے بقول اگر پیپلزپارٹی، مسلم لیگ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل کرتی تو سرمایہ کاروں کا نہ صرف اعتماد بحال ہوتا بلکہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفٰی دینے کے بعد ملکی معیشت پر پڑنے والے مثبت اثرات بھی برقرار رہتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد