’یہ اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف احتساب کے ادارے نیب کی جانب سے ایک پرانے مقدمے کی سماعت کی درخواست کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے لیڈروں نے اس مقدمے کو ’ہمارے درمیان‘ غلط فہمی کی بنیاد نہ بننے دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں اس ضمن میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک نے کہا کہ انہیں بھی نیب کے وکیل کی جانب اس اچانک عمل پر سخت حیرت ہوئی ہے کیونکہ یہ درخواست نیب کے وکیل یا پراسیکیوٹر نے اپنے طور پر دائر کی ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ انہوں نے نیب سے دریافت کیا ہے کہ ایسا کیوں اور کس کے کہنے پر کیا گیا ہے کیونکہ حکومت نیب کے ذریعے احتساب کے عمل کو موجودہ طریقہ کار کے تحت جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور اسی بنا پر بیشتر نیب عدالتیں کام بھی نہیں کر رہیں۔ فاروق نائیک نے کہا کہ اس وضاحت کے لئے انہوں نے نیب کے سربراہ کو اپنے دفتر میں طلب کیا ہے تاکہ وہ خود اس معاملے کی وضاحت کر سکیں۔ فاروق نائیک کے اس بیان کے بعد پیپلز پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بابر اعوان نے سینیٹ کے اجلاس میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جماعت کی جانب سے یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ نیب کی اس نئی کار گزاری سے انکی جماعت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام نیب میں سابقہ دور کی باقیات نے کیا ہے اور اسکا مقصد سیاسی جماعتوں کے درمیان غلط فہمیوں کو فروغ دینا ہے۔ سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر اور پارٹی سربراہ نواز شریف کے معتمد اسحٰق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ شریف برادران کے خلاف پرانے مقدمے کی سماعت کی درخواست اسٹیبلشمنٹ کی جمہوریت کے خلاف سازش ہے لیکن وہ اس دھوکے میں نہیں آئیں گے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو کمزور کرنے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے ایک ساتھ جدو جہد کر کے اور قربانیاں دے کر ملک سے آمریت کا خاتمہ کیا ہے اور وہ ان قربانیوں کو رائیگاں جانے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو کوئی خطرہ ہوا تو وہ حزب اختلاف میں رہتے ہوئے بھی اسکا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی حکومت بچانے کے لئے چھوٹے گروپوں یا جماعتوں پر انحصار کی ضرورت نہیں ہے۔ | اسی بارے میں نیب کے خلاف متفقہ قرار داد08 August, 2008 | پاکستان زرداری بی ایم ڈبلیو کیس میں بری14 March, 2008 | پاکستان زرداری کے خلاف کئی مقدمےختم 05 March, 2008 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس ایک بار پھر مؤثر27 February, 2008 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس سے فائدہ کسے ہو رہا ہے؟27 February, 2008 | پاکستان بینظیر کے خلاف مقدمہ ختم15 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||