زرداری بی ایم ڈبلیو کیس میں بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی احتساب عدالت نے جمعہ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس کیس میں بری کردیا ہے۔ آصف علی زرداری کے خلاف راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں زیر سماعت سات مقدمات تھے اور ان سب میں ان کو بری کیا جا چکا ہے۔ ان ریفرنسوں میں بینظیر بھٹو بھی نامزد ملزمہ تھیں لیکن ان کے قتل کے بعد ان کا نام ان مقدمات سے خارج کردیا گیا تھا۔ اب پیلٹز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں ہے۔آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے خلاف اگر بیرون ممالک میں کوئی ریفرنس ہیں اور وہ قومی مفاہتی ارڈینینس کے زمرے میں آتے ہیں ان کو ختم کیا جائے اور عدالت کو اکیس مارچ تک اس بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج صغیر احمد قادری نے آصف علی زرداری کی بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اس ریفرنس میں سے بری کردیا۔ بدھ کے روز بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس میں ان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ جمعہ کے روز تک محفوظ کر لیا تھا جبکہ اُسی روز عدالت نے انہیں ایس جی ایس کوٹیکنا کیس سے بری کردیا تھا۔ بدھ کے روز بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس کی سماعت پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ریفرنس قومی مفاہتی آرڈیننس کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اس مقدمے میں اشتہاری ہیں اور انہیں خود عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ان کے مؤکل نے ساڑھے آٹھ سال جیل کاٹی ہے اور اس عرصے کے دوران نیب ان کے خلاف کوئی ایک مقدمہ بھی ثابت نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس میں جو گواہ پیش کیے گیِ ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ آصف علی زرداری نے یہ گاڑی خریدی ہے یا اس کی ٹیکس ڈیوٹی ختم کروانے کے سلسلے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ہے یا سرکاری خزانے کو ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کا نقصان پہنچا تھا۔ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت نے آصف علی زرداری کے خلاف جنیوا میں ایک کیس دائر کیا تھا اور سنہ انیس سو اٹھانونے سے لے کر آج تک اس ریفرنس کی انکوائری مکمل نہیں ہوئی اور نہ ہی اُسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے بھی حکومت کو احکامات ہیں کہ وہ تفتیش سے اپنے آپ کو ہٹا لیں کیونکہ اتنے عرصے کے دوران وہ آصف علی زرداری کے خلاف کوئی شواہد عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فارق ایچ نائیک نے کہا کہ نیب نے بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس آصف علی زرداری کے خلاف اس وقت دائر کیا تھا جب سنہ دوہزار ایک میں ان کی آخری مقدمے میں ضمانت ہوئی تھی۔ | اسی بارے میں کوٹیکنا کیس: آصف زرداری بری12 March, 2008 | پاکستان زرداری کے خلاف کئی مقدمےختم 05 March, 2008 | پاکستان زرداری پر مقدمات ختم کرنے کا حکم04 March, 2008 | پاکستان قومی مفاہمتی آرڈیننس، مشروط12 October, 2007 | پاکستان سزاؤں کی منسوخی پر فیصلہ محفوظ11 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||