BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 March, 2008, 08:23 GMT 13:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری بی ایم ڈبلیو کیس میں بری

آصف زرداری
آصف زرداری آٹھ سال جیل کاٹی لیکن اس دوران ان پر نیب کا کوئی مقدمہ ثابت نہ ہو سکا
راولپنڈی کی احتساب عدالت نے جمعہ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس کیس میں بری کردیا ہے۔

آصف علی زرداری کے خلاف راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں زیر سماعت سات مقدمات تھے اور ان سب میں ان کو بری کیا جا چکا ہے۔ ان ریفرنسوں میں بینظیر بھٹو بھی نامزد ملزمہ تھیں لیکن ان کے قتل کے بعد ان کا نام ان مقدمات سے خارج کردیا گیا تھا۔

اب پیلٹز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں ہے۔آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے خلاف اگر بیرون ممالک میں کوئی ریفرنس ہیں اور وہ قومی مفاہتی ارڈینینس کے زمرے میں آتے ہیں ان کو ختم کیا جائے اور عدالت کو اکیس مارچ تک اس بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔

راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج صغیر احمد قادری نے آصف علی زرداری کی بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اس ریفرنس میں سے بری کردیا۔

 بدھ کے روز بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس کی سماعت پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ریفرنس قومی مفاہتی آرڈیننس کے زمرے میں نہیں آتا

بدھ کے روز بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس میں ان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ جمعہ کے روز تک محفوظ کر لیا تھا جبکہ اُسی روز عدالت نے انہیں ایس جی ایس کوٹیکنا کیس سے بری کردیا تھا۔

بدھ کے روز بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس کی سماعت پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ریفرنس قومی مفاہتی آرڈیننس کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اس مقدمے میں اشتہاری ہیں اور انہیں خود عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔

آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل
کو جان کا خطرہ ہے اور ان کو سیکورٹی کے بارے میں خدشات ہیں جن کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے جس پر عدالت نے آصف علی زرداری کو اس مقدمے میں عدالت میں پیشی سے مستثنی قرار دے دیا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ان کے مؤکل نے ساڑھے آٹھ سال جیل کاٹی ہے اور اس عرصے کے دوران نیب ان کے خلاف کوئی ایک مقدمہ بھی ثابت نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس میں جو گواہ پیش کیے گیِ ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ آصف علی زرداری نے یہ گاڑی خریدی ہے یا اس کی ٹیکس ڈیوٹی ختم کروانے کے سلسلے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ہے یا سرکاری خزانے کو ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کا نقصان پہنچا تھا۔

آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت نے آصف علی زرداری کے خلاف جنیوا میں ایک کیس دائر کیا تھا اور سنہ انیس سو اٹھانونے سے لے کر آج تک اس ریفرنس کی انکوائری مکمل نہیں ہوئی اور نہ ہی اُسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے بھی حکومت کو احکامات ہیں کہ وہ تفتیش سے اپنے آپ کو ہٹا لیں کیونکہ اتنے عرصے کے دوران وہ آصف علی زرداری کے خلاف کوئی شواہد عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

فارق ایچ نائیک نے کہا کہ نیب نے بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس آصف علی زرداری کے خلاف اس وقت دائر کیا تھا جب سنہ دوہزار ایک میں ان کی آخری مقدمے میں ضمانت ہوئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد