کوٹیکنا کیس: آصف زرداری بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی احتساب عدالت نے بدھ کے روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سمیت تین افراد کو قومی مفاہمتی آرڈینینس کے تحت ایس جی ایس کوٹیکنا کیس سے بری کردیا ہے جبکہ بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس میں ان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ چودہ مارچ تک محفوظ کر لیا ہے۔ ایس جی ایس کوٹیکنا کیس میں جن دو افراد کو بری کیا گیا ہے ان میں سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو اور سینٹرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین اے آر صدیقی شامل ہیں۔ یہ ریفرنس سات افراد کے خلاف دائر کیا گیا تھا اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ کے مطابق اس ریفرنس میں دیگر ملزمان غیرملکی ہیں۔ واضح رہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں زیر سماعت سات مقدمات میں سے اب تک چھ مقدمات میں ان کو بری کیا جاچکا ہے۔ ان ریفرنسوں میں بینظیر بھٹو بھی نامزد ملزمہ تھیں لیکن ان کے قتل کے بعد ان کا نام ان مقدمات سے خارج کردیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ آصف علی زرداری کے خلاف بیرون ممالک میں دائر مقدمات ختم کرکے اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ آج راولپنڈی کی احتساب عدالت میں جب ایس جی ایس کوٹیکنا اور بی ایم ڈبلیو ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت کے جج صغیر احمد قادری نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل ڈاکٹر دانشور ملک سے پوچھا کہ کیا ایس جی ایس کوٹیکنا کیس کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں، جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ چونکہ یہ ریفرنس قومی مفاہتی آرڈینینس کے تحت آتا ہے اس لیے وہ اس بارے میں کوئی دلائل نہیں دیں گے۔ جس پر عدالت نے اس ریفرنس میں آصف علی زرداری اور دیگر دو افراد کو بری کردیا۔ واضح رہے کہ ’ایس جی ایس‘ اور ’کوٹیکنا‘ نامی دونوں یورپی کمپنیاں درآمد کردہ سامان کی مالیت طے کرنے اور اس حساب سے ٹیکس وصول کرنے کی سفارشات کا کام کرتی ہیں۔ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں دونوں کمپنیوں کو پری شپمینٹ انسپیکشن کے ٹھیکے اس بنیاد پر دیےگئے کہ بعض پاکستانی درآمد کنندہ درآمد کردہ اشیاء پر ٹیکس سے بچنے کے لیے ان کی قیمتیں کم ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب مسلم لیگ نواز کی حکومت قائم ہوئی تو بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے’ کمیشن‘ کی خاطر ایس جی ایس اور کوٹیکنا کمپنیوں کو ٹھیکے دیے اور بھاری رقم حاصل کی۔ بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریفرنس قومی مفاہتی آرڈنینس کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اس مقدمے میں اشتہاری ہیں اور انہیں خود عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو جان کا خطرہ ہے اور ان کو سیکورٹی کے بارے میں خدشات ہیں جن کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔ جس پر عدالت نے آصف علی زرداری کو اس مقدمے میں عدالت میں پیشی سے مستثنی قرار دے دیا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ان کے مؤکل نے ساڑھے آٹھ سال جیل کاٹی ہے اور اس عرصے کے دوران نیب ان کے خلاف کوئی ایک مقدمہ بھی ثابت نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس میں جو گواہ پیش کیے ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ آصف علی زرداری نے یہ گاڑی خریدی ہے یا اس کی ٹیکس ڈیوٹی ختم کروانے کے سلسلے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ہے۔ | اسی بارے میں پی پی رہنماؤں کے خلاف ریفرنس ختم10 March, 2008 | پاکستان زرداری پر مقدمات ختم کرنے کا حکم04 March, 2008 | پاکستان بینظیر کے خلاف مقدمہ ختم15 January, 2008 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس، سب کے مزے05 October, 2007 | پاکستان شریف برادران پر مقدمات کی حیثیت23 August, 2007 | پاکستان شریف خاندان،نیب مقدمے پھرشروع17 August, 2007 | پاکستان ’بعد از معافی، مقدمہ نہیں کھُل سکتا‘17 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||