BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2008, 17:23 GMT 22:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگی وزراء کے استعفے منظور

وفاقی کابینہ کا حلف(فائل فوٹو)
وفاقی کابینہ میں توسیع کی جائے گی اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم، اے این پی اور جے یو آئی کو بھی وزارتیں ملیں گی
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے مشورے پر پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے نو وفاقی وزراء کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وزراء نے بارہ مئی کو اُس وقت اپنے عہدوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی نے ’معاہدے‘ کے باوجود افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے معزول ججوں کو بحال نہیں کیا تھا۔

ان وزراء میں چوہدری نثار علی خان، سینیٹر اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، سردار مہتاب عباسی، شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، تہمینہ دولتانہ اور رانا تنویر حسین شامل ہیں۔

پنجاب میں کیا ہوگا؟
 پیپلزپارٹی کو پنجاب حکومت میں رکھنے کا فیصلہ پارٹی کے صدر میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد کیا جائے گا
نثار علی
پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے ان وزراء کے پاس خزانہ، مواصلات، دفاعی پیداوار اور سرمایہ کاری جیسے محکموں کا قلمدان تھا۔

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ان وزراء نے اپنے استعفی وزیر اعظم کو دئیے تھے تو انہوں نے ان کو قبول نہیں کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد سے الگ ہونے والی پاکستان مسلم لیگ ن کو اتحاد میں واپس آنے اور وزارتیں دوبارہ سنبھالنے کے لیے کہتی رہی لیکن مسلم لیگ نواز ججوں کی بحالی کے مؤقف پر قائم ہے۔

چند روز قبل جب میاں نواز شریف نومنتخب صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد دینےگئے تو اُس دوران بھی وزیر اعظم اور آصف علی زرداری نے انہیں کابینہ میں واپسی کے لیے کہا تھا تاہم مسلم لیگ ن نے کابینہ میں واپس آنے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ وہ ایسی کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے وفاقی حکومت کمزور ہو۔

کابینہ میں توسیع
 مسلم لیگ نون کے ان وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد وفاقی کابینہ میں توسیع کی جائے گی اور اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو بھی وفاق میں وزارتیں دی جائیں گی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعت علمائے اسلام فضل الرحمن کو بھی کچھ مزید وزارتیں ملیں گی
اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ اور دوسری سیاسی جماعتوں پر مشتمل وفاق میں حکومت بنائی گئی جبکہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے مل کر حکومت بنائی۔

وفاقی حکومت سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے وزراء کی علیحدگی کے بعد اس جماعت کے ارکان پارلیمنٹ پاکستان پیپلز پارٹی پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی اخلاقی طور پر پنجاب حکومت سے علیحدہ ہوجائیں کیونکہ صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی اکثریت ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے سنیئر رہنما چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو پنجاب حکومت میں رکھنے کا فیصلہ پارٹی کے صدر میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد کیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کے ان وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد وفاقی کابینہ میں توسیع کی جائے گی اور اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو بھی وفاق میں وزارتیں دی جائیں گی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعت علمائے اسلام فضل الرحمٰن کو بھی کچھ مزید وزارتیں ملیں گی۔

اسی بارے میں
نواز شریف سے معذرت: زرداری
25 August, 2008 | پاکستان
حکمراں اتحاد، کب کیا ہوا
25 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد