سیاسی قیادت کے اہم مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اعلیٰ سیاسی رہنماء ملک کی مخلوط حکومت کو معزول ججز کی بحالی اور نئے صدر کے انتخاب سے متعلق درپیش مشکلات کے بارے میں جمعہ کو مذاکرات کرنے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل مسلم لیگ(ن) کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر جمعہ تک معزول ججوں کی بحالی کا فیصلہ نہ کیا گیا تو ان کی جماعت حکمراں اتحاد کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ سیاسی رہنماؤں کے سامنے ججوں کی بحالی کے علاوہ دوسرا مسئلہ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے استعفے کے بعد ملک کے نئے صدر کا فیصلہ کرنا ہے۔ اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق جمعہ کے روز پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پولنگ چھ ستمبر کو ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے بتایا کہ پاکستان کا نیا صدر منتخب کرنے کے لیے کاغذات نامزدگی چھبیس اگست دن بارہ بجے تک وصول کیے جائیں گے۔ حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے زیادہ تر ارکان اپنی جماعت کے رہنماء آصف علی زرداری کو ملک کا صدر بنانا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماء نواز شریف کا خیال ہے کہ صدر کے لیے متفقہ امیدوار چنا جائے۔ اسلام آباد میں نامہ نگار چارلز ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں میں اہم معاملات میں عدم اتفاق کی وجہ سے ملک میں جاری تشدد سے نمٹنے کے لیے پالیسی بننے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ پاکستان میں جمعرات کو ایک خودکش حملے میں ستر لوگ مارے گئے۔ اس سے پہلے منگل کو ڈیرہ اسمعیل خان میں اسی طرح کے ایک حملے میں بتیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں اس بات پر بھی عدم اتفاق ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہونی چاہیے یا نہیں۔ پیپلزپارٹی اس کے حق میں نہیں جبکہ نواز شریف کی جماعت کا خیال ہے ان کے خلاف آئین کو پامال کرنے کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ جمعرات کو پاکستان میں اعلیْ عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلاء نے ہفتہ وار ملک گیر احتجاج کیا اور صدر پرویز مشرف کے مستعفیْ ہونے کے بعد اپنے مطالبات اور نعرے کو نئے رنگ میں ڈھال لیا ہے۔ پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی روشنی میں وکیلوں نے ہڑتال کی اور احتجاجی اجلاسوں کے بعد ریلیاں نکالیں۔ صدر پرویز مشرف کے استعفیْ دینے کے بعد وکلاء کا یہ پہلا ہفتہ وار احتجاج تھا جس میں وکیلوں نے گو مشرف گو کی جگہ سابق صدر کے خلاف کارروائی کرنے کے حق میں نعرے لگائے۔ یاد رہے کہ صدر مشرف کے استعفٰی کے بعد ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد کا اجلاس دو دن جاری رہنے کے بعد کسی فیصلے پر پہنچے بغیر منگل کو ختم ہوگیا تھا۔ اس اجلاس کے پہلے دن وزیرِ قانون اور پی پی پی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں فیصلہ منگل تک کر لیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ اجلاس کے خاتمے پر کہا گیا کہ بات چیت میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔ یہ تین روزہ مہلت بھی جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں مشرف کے خلاف مقدمات کا مطالبہ22 August, 2008 | پاکستان اجلاس ختم، نہ کوئی فیصلہ نہ اعلان19 August, 2008 | پاکستان یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ19 August, 2008 | پاکستان معزول ججوں کی بحالی پر فیصلہ آج19 August, 2008 | پاکستان مشرف مستعفی، نو سالہ دور ختم18 August, 2008 | پاکستان اجلاس: ججوں کا معاملہ سر فہرست18 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||