BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 October, 2008, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمان، فوجی پالیسیوں پر تنقید

قومی اسمبلی
اجلاس ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے کے بعد سوموار کی صبح تک ملتوی کر دیا گیا
قومی سلامتی سے متعلق پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس کے دوسرے روز حزب اختلاف کے بعض ارکان نے صوبہ سرحد اور ملک کے دیگر شورش زدہ علاقوں میں فوجی اور سول انٹیلیجنس اداروں کی کارگزاریوں کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اجلاس کے دوران بعض جذباتی تقاریر بھی کی گئیں جس میں پاک فوج کی جانب سے دی گئی بریفنگ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت اور پاک فوج کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر اسحٰق ڈار اور جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے اپنی اپنی جماعت کا نکتہ نظر پیش کیا اور سوات اور باجوڑ میں فوجی آپریشن بند کرنے اور پاکستانی سرحد کے اندر امریکی مداخلت کے بارے میں واضح پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

تاہم اجلاس میں شامل ایک رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ اجلاس کو بریفنگ دینے والے بری فوج کے اعلٰی افسر نے یہ معلومات فراہم کرنے سے معذرت کی جس کے بعد وزیراعظم نے ارکان سے کہا کہ وہ اس بارے میں آئندہ اجلاس میں کچھ بتا سکیں گے۔

بند کمرے کا یہ اجلاس ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے کے بعد سوموار کی صبح تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

 پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر اسحٰق ڈار اور جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے اپنی اپنی جماعت کا نکتہ نظر پیش کیا اور سوات اور باجوڑ میں فوجی آپریشن بند کرنے اور پاکستانی سرحد کے اندر امریکی مداخلت کے بارے میں واضح پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

حلف رازادری کے باعث اجلاس میں شامل ارکان نے صحافیوں کو ایوان کی کارروائی کے بارے میں تفصیل فراہم کرنے سے انکار کیا البتہ بعض ارکان کے مطابق بدھ کے اجلاس میں خاصی جاندار بحث ہوئی اور پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے قبائلی علاقوں، سوات اور بلوچستان کے مسائل کے بارے میں اپنی پارٹی کے موقف سے لیفٹینٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو آگاہ کیا۔

لیفنٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا حال ہی میں ملک کے اعلٰی ترین انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ تعینات ہوئے ہیں۔ لیکن ارکان پارلیمنٹ کو یہ بریفنگ وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے طور پر دے رہے ہیں جہاں وہ تین سال کی تعیناتی کے دوران صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں پاک فوج کے آپریشنز کی نگرانی کرتے رہے ہیں۔

بعض ارکان نے ان علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل پاشا نے ان اعتراضات کا تفصیلی اور مدلل جواب دیا۔

تاہم پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے فوجی آپریشن اور مذاکرات کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کے حوالے سے ہونے والے اعتراضات کے بارے میں کہا کہ یہ پالیسی معاملات ہیں جن پر وہ کچھ کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کا تعلق حکومت سے ہے۔

جنرل احمد شجاع پاشا نے ایسے تمام سوالات جو قبائلی علاقوں میں پالیسی کی تشکیل سے متعلق تھے کے جواب نہیں دیے اور کہا کہ پاک فوج حکومت کی بنائی ہوئی پالیسی پر عمل کرنے کی پابند ہے۔

 ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے فوجی آپریشن اور مذاکرات کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کے حوالے سے ہونے والے اعتراضات کے بارے میں کہا کہ یہ پالیسی معاملات ہیں جن پر وہ کچھ کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کا تعلق حکومت سے ہے۔

حزب اختلاف اور حکومت میں شامل بعض ارکان نے اس بریفنگ میں آئی ایس آئی، انٹیلیجینس بیورو اور دفتر خارجہ کے افسران کو بھی بلانے اور ان سے بھی بریفنگ لئے جانے کا مطالبہ کیا۔ اس پر وزیراعظم نے کہا کہ وہ متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں سوموار سے عام بحث کا آغاز ہو گا جس میں ارکان پارلیمنٹ قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے اپنی تجاویز پیش کریں گے۔

ان تجاویز پر عملدرآمد کے لیے ایوان کی ایک کمیٹی کی تشکیل کے بعد پارلیمنٹ کا یہ خصوصی مشترکہ اجلاس جمعرات کے روز ختم ہو جائے گا۔

ملکی منتخب قیادت کے لئے اس خصوصی بند کمرے کے اجلاس کا اہتمام صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔ صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کو صوبہ سرحد اور شمالی علاقوں میں جاری لڑائی کے بارے میں بہت جلد زمینی حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکیرٹری اطلاعات احسن اقبال نے اجلاس میں شرکت کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز کی بریفنگ پر عدم اطیمنان کے اظہار کے طور پر انکی جماعت کے ارکان نے احتجاجاً آج ہونے والے سوال و جواب کے سیشن میں حصہ نہیں لیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ انکی جماعت نے قومی سلامتی سے متعلق امور کے دیگر پہلوؤں پر پالیسی امور کے بارے میں بریفنگ کا مطالبہ کیا جسکے جواب میں وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا ہے کہ سوموار کے روز مشیر داخلہ رحمٰن ملک صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے بارے میں حکومتی پالیسی سے بند کمرے کے اجلاس کو آگاہ کریں گے۔

پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس کے موقع پر وفاقی دارلحکومت اور بالخصوص پارلیمنٹ کے اردگرد کے علاقوں میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

اسی بارے میں
معمول یا خوشنودی کی کوشش؟
30 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد