BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2008, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمنٹ:’ان کیمرہ‘ بریفنگ دوسرا دن

قومی اسمبلی
یہ پہلا موقعہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پر پارلیمنٹ کو بریفنگ دی جا رہی ہے
ملک میں امن و عامہ کی صورتحال پر اراکان پارلیمان کو بریفنگ دینے کے لیے بلائے جانے والے بند کمرے کے اجلاس کا دوسرا دور جمعرات کو ہو رہا ہے جس میں پاکستان فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن لیفٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا ارکان کے سوالوں کے جواب دیں گے۔

گزشتہ روز اجلاس کے پہلے دن انہوں نے ارکین پارلیمان کو بریفنگ دی تھی۔

پارلیمنٹ کے ممبر پروفیسر خورشید نے اجلاس میں شرکت کے بعد بتایا تھا کہ یہ اجلاس دو سے تین روز جاری رہے گا اور جمعرات کے سیشن میں ارکان پارلیمنٹ ملک کی فوجی قیادت سے بریفنگ کے بارے میں وضاحتی سوالات دریافت کریں گے جس کے بعد ان مسائل کے حل کےلیے تجاویز طلب کی جائیں گی۔

ملکی سلامتی سے متعلق امور پر بریفنگ کے لیے بلائےگئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو حزب اختلاف کے ارکان کی تجویز پر ایوان کی ’مشترکہ کمیٹی‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس کمیٹی میں ملکی سلامتی کے امور بحث آئندہ ہفتے بھی جاری رہے گی۔

سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے بتایا کہ دو روز جاری رہنے کے بعد یہ اجلاس پیر کو دوبارہ شروع ہوگا جس میں ارکان پارلیمنٹ اظہار خیال کریں گےاور مسائل کے حل کے لیےتجاویز پیش کریں گے۔

سچ نہیں ہو گا
 میں اس لیےاس میں شریک نہیں ہوا کہ پاک فوج کے نمائندے سرکاری پالیسی بیان کریں گے جو سچ نہیں ہوگا اور اس ملک کے مسائل کا حل صرف اور صرف سچ میں ہے
محمود خان اچکزائی

ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے بعد یہ اجلاس آئندہ جمعرات کو ختم کر دیا جائے گا۔

پروفیسر خورشید کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ ایوان کو’ کمیٹی‘ میں بدلنے کا مقصد قواعد کی خلاف ورزی سے بچنا ہے کیونکہ آئین کے تحت صدر مملکت کے علاوہ کوئی دوسری شخصیت مشترکہ اجلاس سے خطاب نہیں کر سکتی۔

ملکی منتخب قیادت کے لیے ’بند کمرے‘ کے اجلاس کا اہتمام صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر کیا گیا تھا جہنوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کو صوبہ سرحد اور شمالی علاقوں میں جاری لڑائی کے بارے میں بہت جلد زمینی حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ کے قریب سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

اجلاس کی کارروائی کے بارے میں بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس خصوصی اجلاس کی کارروائی کا ایک نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا تھا کہ ملکی سلامتی امور سے متعلق پارلیمنٹ کو بریفنگ دی جائے گی۔

پروفیسر خورشید نے بتایا کہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے حاضرین سے رازداری کا حلف بھی لیا۔

سپیکر قومی اسمبلی نے اس اجلاس میں شرکت کےلیے سترہ ایسے افراد کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے جو پارلیمنٹ کے ارکان نہیں ہیں۔ ان میں چاروں صوبوں کے وزارئے اعلیٰ اور گورنر صاحبان کے علاوہ مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف، امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی شخصیات محمود خان اچکزئی، عطااللہ مینگل اور ڈاکٹر عبدلحئ بلوچ شامل ہیں۔

نواز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی خصوص دعوت میں اس اجلاس میں شرکت کرنا قبول کیا تھا جبکہ قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ وہ بریفنگ دینے والوں سے زیادہ با خبر ہیں اس لیے انہیں اس بریفنگ میں شرکت کی ضرورت نہیں ہے۔ اسکے علاوہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی آج کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

ان سے زیادہ جانتا ہوں
 بریفنگ دینے والوں سے زیادہ با خبر ہیں اس لیے انہیں اس بریفنگ میں شرکت کی ضرورت نہیں ہے
قاضی حسین احمد

عدم شرکت کی وجہ بتاتے محمود خان اچکزئی نے ایک نجی ٹیلی وژن کو بتایا کہ اس اجلاس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اس لیے وہ اس میں شریک نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے نمائندے سرکاری پالیسی بیان کریں گے جو سچ نہیں ہو گا اور اس ملک کے مسائل کا حل صرف اور صرف سچ میں ہے۔

پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس کے موقع پر وفاقی دارلحکومت اور بالخصوص پارلیمنٹ کے اردگرد کے علاقوں میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی پارلیمنٹ ہاؤس اور اردگرد کے علاقے میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دئیے گئے۔ شاہراہ دستور اور پارلیمنٹ کی جانب جانے والی دیگر سڑکوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی اور ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ کسی کو بھی اس جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس اور اردگرد کے علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے متعدد ہیلی کاپٹرز پرواز کرتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت میں ملکی سیاسی قیادت کے علاوہ پاک فوج کے متعدد سینیئر افسران بھی موجود تھے۔

گو کہ عام تاثر کے برعکس حفاظتی نکتہ نظر سے پاک فوج کو اسلام آباد کے خصوصی حفاظتی زون میں تعینات نہیں کیا گیا ہے لیکن اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شاہراہ دستور اور پارلیمنٹ کے اردگرد کے علاقے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاک فوج کی تکنیکی مدد لی گئی ہے۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ تیسرا موقع ہے جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے لیے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں امتناع قادیانیت آرڈیننس پر پارلیمنٹ کے بند کمرے میں بریفنگ کا بندوبست کیا گیا تھا جبکہ انیس سو چھیاسی میں وزیراعظم محمد خان جونیجو نے افغانستان سے متعلق ہونے والے جینیوا معاہدے کے بارے میں ارکان پارلیمنٹ کے لیے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ منعقد کی تھی۔

اسی بارے میں
معمول یا خوشنودی کی کوشش؟
30 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد