آئی ایس آئی کا سربراہ کیوں تبدیل؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج کے قبل از وقت تبادلے کو تو چند روز گزر چکے ہیں لیکن اس کا سیاسی حلقوں میں چرچا اب بھی جاری ہے۔ بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے پر اپنے اعتماد والے افسر کو لگانے کی جہاں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کی ضرورت تھی وہاں انہیں ایسا کرنے کے لیے ماحول بھی سازگار ملا۔ حکومت تو پہلے ہی چاہ رہی تھی کہ سابق صدر پرویز مشرف کے بااعتماد شخص کو آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے ہٹایا جائے کیونکہ اس کی بہت سی وجوہات تھیں۔ مثال کے طور پر جب حکومت نے بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے کا فیصلہ کیا تو سب سے زیادہ مخالفت آئی ایس آئی کی طرف سے ہوئی تھی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اختلاف رائے تلخی کی حد تک بڑھ گیا تھا اور وزیراعظم کو اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرنا پڑا تھا۔ اقوام متحدہ سے جانچ کی مخالفت تو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب منیر اکرم نے بھی کی تھی اور حکومت نے ان دونوں کو فارغ کردیا تھا۔ حکومت یقیناً جنرل ندیم تاج کو پہلے دن سے ہٹانے کی خواہاں تھی لیکن آرمی چیف نے اس میں احتیاط سے کام لیا۔ اس دوران حکومت نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جو اسے چند گھنٹے بعد واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت بھی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ آصف علی زرداری صدر مشرف سے بعض اہم افسران کو تبدیل کرنے پر زور دیتے رہے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا تو صدر مشرف کے خلاف مواخذے کا اعلان کیا گیا۔ حکومت اور امریکہ کی مرضی کو بھانپتے ہوئے آرمی چیف نے جنرل ندیم تاج کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے تو ہٹا دیا لیکن انہیں کسی غیراہم عہدے پر مقرر کرنے کے بجائے گجرانوالہ کا کور کمانڈر تعینات کر دیا اور بظاہر یہ تاثر دیا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج کو سزا کے طور پر نہیں ہٹایا گیا۔ حالانکہ جنرل ندیم تاج کی آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر تعیناتی کو بمشکمل ایک سال ہوا تھا۔ فوجی روایات اور طریقۂ کار کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے کسی بھی افسر کی پوسٹنگ کم از کم دو برس کے لیے ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بعض سرکردہ رہنما نجی محفلوں میں کہتے رہے ہیں کہ بینظیر بھٹو نے گزشتہ دسمبر کے آخری عشرے میں کئی بار آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ندیم تاج سے ملاقات کے لیے رابطہ کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق چھبیس اور ستائیس دسمبر کی درمیانی شب جنرل ندیم تاج نے اچانک خود بینظیر بھٹو سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی لیکن پھر بینظیر نے ملنے سے معذرت کرلی تھی۔ لیکن بینظیر بھٹو کے دو قریبی ساتھیوں نے انہیں ندیم تاج سے ملنے پر راضی کیا اور پیپلز پارٹی کی سربراہ نے اپنے قتل سے محض اٹھارہ گھنٹے قبل ان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں بینظیر بھٹو نے اٹھارہ فروری کے انتخابات میں دھاندلی روکنے کے لیے آئی ایس آئی کے سربراہ پر زور دیا اور انہیں مبینہ مجوزہ دھاندلی کے متعلق دستاویزات بھی پیش کیں۔ جبکہ اس ملاقات میں آئی ایس آئی کے سربراہ نے بینظیر بھٹو سے کہا کہ وہ ستائیس دسمبر کا جلسہ نہ کریں۔ پیپلزپارٹی کے بعض اراکین اسمبلی کے مطابق ان کی لیڈر نے یہ دھمکی نما مشورہ تسلیم نہیں کیا اور آخر کار انہیں ’شہید‘ کردیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||