جنگ ابھی اپنے منطقی انجام سے کوسوں دور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں شدت پسندی کا سات طویل برسوں تک مقابلہ کرنے کے بعد بھی اس وقت جس ایک بات پر سیاسی و فوجی قیادت میں اتفاق رائے دکھائی دے رہا ہے وہ یہی ہے کہ یہ جنگ ابھی اپنے منطقی انجام سے کوسوں دور ہے۔ ابھی مزید قربانیاں دینی ہوں گی اور ابھی مزید نقصانات برداشت کرنا ہوں گے۔ پاکستان فوج کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق دو ہزار ایک کے بعد سے تیرہ سو سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تقریباً ساڑھے تین ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ شدت پسندوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا تو کسی کو کوئی اندازہ بھی نہیں۔ شدت پسند تو لاشیں اٹھا کر لے جاتے ہیں لہٰذا سرکار کو گنتی کرنے میں مشکل آتی ہے لیکن عام شہریوں کے بھی اعدادوشمار دینے سے حکومت اس لیے شاید گھبراتی ہے کہ کہیں بدنامی نہ ہو جائے۔ تاہم اس کا ایک محتاط اندازہ لگانے کے لیے یہ اعدادوشمار کافی ہوں گے۔ گزشتہ برس جولائی سے آج تک فوجی اعدادوشمار کے مطابق صرف اٹھاسی خودکش حملوں میں ساڑھے آٹھ سو عام شہری ہلاک جبکہ تئیس سو زخمی ہوئے۔ پولیس کے ایک سو بائیس افراد اس کے علاوہ ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں زخمیوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپاہج ہوگئے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی کہتا ہے کہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں نے سب زیادہ قربانیاں دی ہیں تو ہرگز غلط نہیں ہے۔ فوجی ذرائع کی پیشن گوئی ہے کہ یہ جنگ مزید چند برس چلے گی اور ان اعدادوشمار کے مزید بڑھنے کا امکان بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
اتنی قربانیوں کے باوجود قوم کو اس اہم مسئلے پر نہ ماضی میں اعتماد میں لیا گیا نہ آج ایسی کوئی کوشش اب نتیجہ خیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ شدت پسندی سے نمٹنے کے طویل مدتی طریقہ کار اور اگر اس پر کسی طرح سے قابو پا بھی لیا جاتا ہے تو اسے دوبارہ پھیلنے سے روکنے کے لیے منصوبہ بندی کی کمی بھی حکومتی سطح پر دیکھی جا سکتی ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں سے بات کرنے سے ایک بات تو صاف ظاہر ہوئی ہے کہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہرگز نہیں ہیں۔ اس جنگ میں برس ہا برس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے باوجود پاکستانی فوج کم از کم اس جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح ڈیڈلائن دینے کی خواہش ہوتے ہوئے بھی اس حالت میں نہیں کہ واضح ڈیڈ لائن دے سکیں۔ ایک اعلٰی ترین سرکاری اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر قوم کو واضع تنبیہہ کچھ یوں دی: ’یہ ایک مسلسل جاری عمل ہے۔ نہ تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دو ہزار آٹھ میں ختم ہوگی اور نہ ہی دو ہزار نو میں۔ پرامید ہونے کی ضرورت نہیں‘۔ قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد کے اکثر اضلاع بقول حکومت ’حالت جنگ‘ میں ہیں۔ قبائلی علاقہ باجوڑ تازہ ترین میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ یہاں سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ماہ سے جاری شدید جنگ کے بعد وہ کامیابی کے قریب ہیں لیکن یہ کب حاصل ہوسکے گی اس بارے میں بھی وہ کوئی واضح معیاد دینے کو تیار نہیں۔ مصدقہ خفیہ معلومات کی کمی میں سیکیورٹی فورسز کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آیا شدت پسندوں کے رہنما مولانا فقیر محمد زخمی ہیں یا نہیں، وہ باجوڑ میں ہیں یا مہمند میں۔ شدت پسندوں کے ایک دوسرے اہم افغان رہنما قاری ضیاالرحمان باجوڑ میں ہی روپوش ہیں یا افغانستان چلے گئے، عسکریت پسندوں کو کتنا اور کس قسم کا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ان کی اس بارہ سو مربع کلومیٹر کے خطے دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت کس حد تک مفلوج ہوچکی ہے۔ شاید یہی خفیہ معلومات کی کمی کی وجہ سے امریکیوں نے خود ہی اس بارے میں اقدامات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر پاکستانی جس انسانی ذرائع سے حاصل معلومات سے اہم معلومات اکٹھی نہیں کرسکتے تو امریکیوں کو کیا دیں گے؟ خفیہ معلومات کی کمی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ادارے یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے لیے بلکہ کسی کے لیے بھی افغان سرحد کو مکمل طور پر سیل کرنا ممکن نہیں۔ ایک اعلٰی سیکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ آنا جانا تو لگا رہے گا۔ ساتھ میں ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ فوج علاقے میں ہمیشہ کے لیے نہیں گئی ہے۔ اسے آج یا کل واپس جانا ہی ہوگا۔ تو اگر ایک مرتبہ علاقے کی صفائی کے بعد فوج نکلتی ہے تو کیا گارنٹی ہوگی کہ شدت پسند دوبارہ وہاں نہیں آئیں گے۔ انہیں روکنے کے لیے نیم فوجی ملیشیا کیا کافی ہوگی؟ فرنٹیئر کور کے وسائل اور مسائل اگر دیکھیں تو شاید یہ ممکن نہ ہوگا۔ پولیس اہلکار تو واضع طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ جرائم پر نظر رکھنے کے لیے ہیں دہشت گردوں پر نہیں۔ ایسے میں حکمرانوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ امریکہ جاکر وہاں کے میڈیا کو جو وہاں کے لوگوں کو اچھا سنائی دے سنانے کی کوشش کریں۔ صدر آصف علی زرداری کے چند حالیہ بیانات اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ان کا اعلان کہ وہ ’طالبان پر آکسیجن بند کر دیں گے‘ جیسے بیانات سے وہ اپنے آپ کو سابق صدر مشرف کے قریب کر رہے ہوں گے۔ جیسے کہ فوج کہتی ہے کہ ملٹری کارروائیاں ہر مسئلے کا حل نہیں ہوسکتیں لہٰذا اگر سیاسی عمل شروع ہونا ہے تو ہمارے رہنماؤں کو اتنی گنجائش رکھنی چاہیے کہ کل کو سیاسی عمل میں معاون ثابت ہوسکے۔ حکومت کو عوامی رائے ہموار کرنے اور اس طویل جنگ کے لیے تیار کرنے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||