قبائلی علاقہ، بہتری کے امکانات ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ملک کے جن خطوں میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب رہی ان میں قبائلی علاقے سر فہرست ہے۔ تاہم ان کی رخصتی سے بعض مبصرین کے خیال میں شدت پسندی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ قبائلی علاقوں میں سرگرم مقامی طالبان کی جانب سے امریکہ کا قریبی حلیف قرار دیئے جانے والے پرویز مشرف سے وہاں پائی جانے والی نفرت کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں۔ ان کے جانے سے ایک قابل نفرت عنصر کا خاتمہ تو ضرور ہوگا لیکن کیا وہاں کی صورتحال میں کوئی بہتری کے امکانات بھی ہیں یا نہیں۔ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں موجودہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ کس طرح ان کی پالیسیاں بھارت، کشمیر اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی یا قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے مقابلے کے لیے صدر مشرف سے مختلف ہوں گی۔ ’اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ اس وقت سب چاہے فوج ہو یا سیاسی قوتیں ان سے قومی مفاہمت کی خاطر تعاون کے لیے تیار ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کے وہ یہ موقع ضائع نہیں کریں گے۔‘ تحریک طالبان پاکستان پہلے ہی صدر مشرف کے جانے پر اپنی خوشی کا اظہار حکومت کو اس پیشکش کے ساتھ کرچکی ہے کہ اگر وہ صدر مشرف کی پالیسیاں ترک کر دیں تو وہ بھی اپنے حملے بند کر دیں گے۔ حکمراں اتحاد کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں صدر کی پہلے دن سے ڈکٹیشن لینے والی پالیسی سے مختلف پالیسی اپنائیں گے۔ ظفر اقبال جھگڑا کا کہنا تھا ’وہ ان مخصوص عناصر کی ڈکٹیشن لیتے تھے جن کے اپنے مخصوص عزائم تھے۔ ہم اپنی نہیں کسی اور کی جنگ لڑ رہے تھے۔ مجھے یقین ہے آپ کل سے ہی تبدیلی محسوس کرنا شروع کر دیں گے۔‘ بعض مبصرین کے خیال میں جنرل مشرف خود سیاسی پس منظر نہیں رکھتے تھے لہٰذا انہیں مشکل پیش آ رہی تھی۔ لیکن مخلوط حکومت کی سیاسی ساکھ بھی ہے اور اس مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کرنے کی خواہش بھی۔ ظفر اقبال جھگڑا کو امید ہے کہ مشرف کو استعمال کرنے والے مخصوص مفادات والے یہ عناصر اب خودبخود پیچھے ہٹ جائیں گے۔ مسلم لیگ نون نے قبائلی علاقوں میں جاری کارروائیوں پر شکایت کی تھی کہ اسے اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل کا تاہم کہنا ہے کہ اب پیپلز پارٹی کو احساس ہوگیا ہے کہ جمہوریت کے لیے انہیں مشاورت سے فیصلے کرنے ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کے سینٹر بابر اعوان کہتے ہیں کہ صدر مشرف کے جانے سے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور مثبت تبدیلی یقینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی پالیسی میں مذاکرات کو ماضی کے برعکس اب زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ ’ان کے جانے سے سازگار ماحول تیار کرنے میں مدد ملے گی۔‘ لیکن جب ان کو بتایا گیا کہ باجوڑ میں آج بھی بات چیت نہیں، فوجی کارروائیاں ہو رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں جن لوگوں کے جان و مال کو خطرہ تھا انہیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ’اس مسئلے کو بنانے میں کئی سال لگے تو اس کے حل میں اگر سال نہیں تو چند ماہ تو ضرور لگیں گے۔‘ شدت پسندوں کی جانب سے تبدیلی کے اشارے خودکش حملوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی سے عیاں ہیں لیکن مشاہد حسین جیسے لوگوں کے خیال میں نئی حکومت نے پالیسی میں تبدیلی کے ابھی تک کوئی خاص اشارے نہیں ہیں۔ امن معاہدے بحالی امن میں کوئی زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق شدت پسندی کا طاقت کے استعمال کے بغیر کوئی علاج نہیں۔ آیا باجوڑ میں کارروائی نئی حکومت کی اسی سوچ کو ظاہر کر رہی ہے؟ | اسی بارے میں طالبان سے مذاکرات حل اور کیا؟27 July, 2008 | پاکستان ’مذاکرات کی حکمتِ عملی دو دھاری تلوار‘25 June, 2008 | پاکستان ’امن معاہدہ دہشت گردوں سے نہیں‘21 May, 2008 | پاکستان ’جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں‘23 April, 2008 | پاکستان طالبان سے مفاہمت کہاں تک جائے گی؟03 April, 2008 | پاکستان وزیرستان فائربندی میں توسیع01 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||