BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 May, 2008, 16:54 GMT 21:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن معاہدہ دہشت گردوں سے نہیں‘

وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان
وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے صحافیوں کو کابینہ میں کیے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا
حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوج کی تشکیل نو اور سڑکوں کے کھولے جانے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ دہشت گردوں کے ساتھ امن معاہدہ کیا جانے والا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد یہاں صحافیوں کو اس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ حکومت صرف پرامن گروہوں سے بات چیت کرے گی اور ایسے افراد سے بات نہیں ہوگی جو دہشت گرد ہوں اور جو تشدد کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’ان سے نہ مذاکرات کبھی ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے۔‘

حکومت سازی کے فوراً بعد نئی حکومت نے قیام امن کے لیے ہر کسی سے مذاکرات کرنے کی باتیں کی تھیں لیکن بظاہر امریکی دباؤ کی وجہ سے اب حکومت کو یہ واضح کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ وہ کس سے بات کرے گی اور کس سے نہیں۔

امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے نے اپنے ایک حالیہ بیان میں حکومت پاکستان کے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

شیری رحمان نے سرکاری موقف دہرایا کہ جنوبی وزیرستان سے فوج کی ایک بٹالیئن کا بھی انخلاء نہیں کیا جا رہا ہے صرف پوزیشن تبدیل کی جا رہی ہے۔

انہوں کہا کہ صحافیوں کی علاقے میں رسائی ممکن بنانے کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔ ان کا اشارہ شاید گزشتہ دنوں ملکی اور غیرملکی صحافیوں کے ایک گروپ کو فوج کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے علاقے سپنکئی کا دورہ کروایا تھا۔

اس بارے میں صحافتی حلقوں کا کہنا تھا کہ اگر ان کی مراد اس قسم کے دوروں سے ہے تو یہ سرکار کی نظر کے اندر دوروے کوئی زیادہ مفید ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

ملک میں جاری گندم کے بحران پر بھی وفاقی کابینہ نے غور کیا۔ اس بابت اس بحران پر قابو پانے کے لیے گندم کی برآمد پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تاہم اب نجی شعبے کو بھی اسے درآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ درآمد کی جانے والی گندم کو پہلے صوبہ سرحد اور بلوچستان روانہ کیا جائے گا جہاں زیادہ کمی کی اطلاعات ہیں۔

ادھر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے محمد ضیاءاصفہانی کو سفیر عمومی مقرر کر دیا ہے۔ محمد ضیاءاصفہانی کی تقرری کا کیبنٹ ڈویژن نے بدھ کو باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد