قیدیوں کی رہائی یوسف رضا کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے چاروں صوبائی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے تمام قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے اقدامات کرے جنہوں نے اپنی سزا کی مدت تو مکمل کر لی ہے لیکن تھوڑے سے جرمانے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے رہا نہیں کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو یہ حکم بدھ کو اسلام آباد میں جاری کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں قیدی محض جرمانے کی تھوڑی سے رقم کی عدم ادائیگی کی وجہ سے جیلوں میں بند ہیں۔ اس بارے میں حکومت کی جانب سے اکہتر لاکھ روپے سے زائد رقم متعلق محکموں کو جاری کر دی گئی ہے لہذٰا ان قیدیوں کی جلد از جلد رہائی کو یقینی بنایا جائے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق پورے ملک میں ایسے ایک سو اکانوے قیدیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو سزائیں پوری کر چکے ہیں لیکن رہائی نہیں پا رہے۔ | اسی بارے میں پاکستانی جیلوں میں قید بچے12 July, 2004 | پاکستان بھارت لوٹنے کے لیے 46 قیدی تیار 12 July, 2005 | پاکستان جیل میں کوڑوں کی سزا ختم06 December, 2005 | پاکستان پنجاب جیلوں میں تین گنا قیدی20 March, 2006 | پاکستان سزا میں رعایت کے لیئے بھوک ہڑتال01 April, 2006 | پاکستان ’تمہیں کون بچانے آئےگا‘20 December, 2006 | پاکستان سکھر جیل میں قیدیوں کا احتجاج08 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||