1453 فوجی تاحال سویلین عہدوں پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے سول محکموں سے فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے باوجود اب بھی ساڑھے چودہ سو سے زائد حاضر سروس فوجی افسران مختلف محکموں میں تعینات ہیں۔ وزیر دفاع احمد مختار کا کہنا ہے کہ ’ضروری تقرریوں‘ کی پالیسی کے تحت ان فوجیوں کو واپس فوج میں نہیں بھیجا گیا۔ ایک ہزار چار سو ترپّن حاضر سروس فوجیوں کی سول محکموں میں تقرری کی تصدیق وزیرِ دفاع احمد مختار کی جانب سے رکن قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کی گئی ہے۔ وزیر دفاع نے تحریری طور پر قومی اسمبلی کو بھیجی گئی معلومات میں بتایا ہے کہ سویلین محکموں میں تعینات فوجی افسران میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے لے کر کیپٹن کے عہدوں کے ایک سو چھیالیس جبکہ تیرہ سو سات جونیئر کمیشنڈ افسر شامل ہیں۔ فہرست کے مطابق سب سے زیادہ یعنی نو سو چھتیس فوجی اہلکار اینٹی نارکوٹکس فورس میں تعینات ہیں جبکہ ایوان صدر میں چونسٹھ، وزیراعظم سیکریٹریٹ میں بیالیس اور زلزلہ زدگاں سے متعلق ادارے ’ایرا‘ میں چھیاسٹھ فوجی تعینات ہیں۔ حکومت کی تیار کردہ فہرست کے مطابق بلوچستان حکومت اور وزارت خارجہ میں دو دو فوجی افسران کو ضروری تعیناتی کی بنیاد پر واپس آرمی میں نہیں بھیجا گیا۔ واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے نو سالہ دور میں سینکڑوں سویلین عہدوں پر ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی تعینات کیے گئے۔ لیکن جب انہوں نے آرمی چیف کا عہدہ گزشتہ برس چھوڑ دیا تو موجودہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے حاضر سروس افسران کو واپس فوج میں بلانے کا اعلان کیا تھا۔ | اسی بارے میں مشرف دور میں 1912 فوجی تعینات06 June, 2008 | پاکستان پانچ میجر جنرلز کی فوج میں واپسی01 April, 2008 | پاکستان 72 فوجی سول محکموں سے واپس28 March, 2008 | پاکستان فوج کی ساکھ کی بحالی کے لیے نیا حکمنامہ08 February, 2008 | پاکستان مشرف کی جگہ اشفاق پرویز کیانی02 October, 2007 | پاکستان ’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘26 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||