مشرف دور میں 1912 فوجی تعینات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے جمعہ کو قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے دور میں انیس سو بارہ فوجی افسران کو سویلین عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی برجیس طاہر کے پوچھے گئے سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے اسٹیبلشمینٹ ڈویژن کے انچارج وزیر نے بتایا ہے کہ پانچ سو چونتیس فوجی افسران کو اسٹیبلشمینٹ ڈویژن کے ذریعے تعینات کیا گیا۔ جواب میں مزید بتایا گیا ہے کہ تیرہ سو اٹھہتر فوجی افسران کو اسٹیبلشمینٹ ڈویژن سے ہٹ کر براہ راست مختلف وزارتوں میں تعینات کیا گیا۔ واضح رہے کہ تاحال سویلین عہدوں پر فوجی افسران کی تعیناتی کے بارے میں متضاد معلومات آتی رہی ہیں۔ حکومت اور فوجی ترجمانوں نے سویلین عہدوں پر تعینات فوجی افسران کی تعداد ہمیشہ چھ سو سے کم بتائی ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بیشتر فوجی افسران کو فوری سویلین عہدوں سے واپس بلانے کا حکم دیا تھا۔ جب سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے تو انہوں نے دو ہفتوں کے اندر سویلین عہدوں پر تعینات ایسے فوجی افسران جن کی ضرورت نہیں ہے انہیں واپس بلانے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم کی جانب سے فوجی افسران کو واپس فوج میں بھیجنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہوگئی ہے لیکن تاحال یہ معلوم نہیں کہ کتنے فوجی افسران واپس گئے اور کتنے اب بھی تعینات ہیں۔ تاحال یہ معلوم نہیں کہ کتنے افسران واپس فوج میں جاچکے ہیں۔ اس بارے میں جب فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ درست تعداد کے بارے میں انہیں فی الوقت معلومات نہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ جب آرمی چیف نے سویلین عہدوں پر تعینات فوجی افسران کو واپس بلانے کا حکم دیا تھا، اس وقت تین سو پندرہ حاضر سروس افسران سویلین عہدوں پر تعینات تھے۔ ان کے بقول ان میں سے بیشتر افسران سویلین عہدے چھوڑ کر واپس فوج میں آچکے ہیں جبکہ کچھ افسران اب بھی ایسے ہیں جن کے لیے ان کے محکموں نے باضابطہ درخواست دی ہے کہ انہیں فی الحال واپس نہ کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران اکثر وزیر غائب رہے اور اکثر محکموں سے متعلق سوالات کے جوابات سید خورشید شاہ نے دیئے۔ جب اسلام آباد میں فارم ہاؤس کے لیے پلاٹ الاٹ کرنے کا معاملہ آیا تو سید خورشید شاہ نے ایوان کو بتایا کہ نیلامِ عام کے ذریعے آٹھ پلاٹ الاٹ کیے گئے۔ اس دوران ایوان میں جب فارم ہاؤس کے نام پر بڑے بڑے پلاٹ الاٹ کرنے کی جانچ کا مطالبہ ہوا تو سید خورشید شاہ نے کہا ’اگر حکومت نے جانچ شروع کی تو آپ لوگ ہی حکومت پر تنقید کریں گے کہ انتقامی کارروائی ہورہی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر پورا ایوان متفقہ ہو تو حکومت تحقیقات کراسکتی ہے۔ جس پر پورے ایوان میں ڈیسک بجنا شروع ہوگئے اور بیشتر اراکین نے اس کی تائید کی۔ خورشید شاہ نے بعد میں ایوان کو یقین دلایا کہ وہ وزیراعظم کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور ان سے سفارش کریں گے کہ وہ جانچ کروائیں۔ | اسی بارے میں پانچ میجر جنرلز کی فوج میں واپسی01 April, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے لیے’ کھلا پیغام‘29 March, 2008 | پاکستان 72 فوجی سول محکموں سے واپس28 March, 2008 | پاکستان تنازعوں میں نہ گھسیٹا جائے: کیانی06 March, 2008 | پاکستان وزیراعظم کو چیف کی پہلی بریفنگ02 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||