BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 October, 2008, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمنٹ:بند کمرے میں اجلاس طلب

زرداری
’ملکی سلامتی سے کسی کو بھی کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘
صدر پاکستان نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اراکینِ پارلیمنٹ کو ملک میں امن و عامہ کی صورتحال پر بند کمرے میں بریفنگ دی جائے گی۔

ایک سرکاری اعلان کے مطابق صدر آصف زرداری نے آٹھ اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں رکن پارلیمان کو بند کمرے میں ملک میں امن و عامہ کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ صدر ، وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کی میٹنگ میں کیا گیا۔

صدر آصف زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور اے این پی کے لیڈر اسفندیار کی ملاقات کے بعد صدر ہاؤس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی تک دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

ایوان صدر کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر اور آرمی چیف کی ملاقات میں بعد میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی بھی شامل ہوگئے۔

آرمی چیف نے صدر آصف علی زرداری کو قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں اور مقامی قبائل کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں یہ طے پایا کہ حکومت فوری طور پر سکیورٹی فورسز کی مدد کرنے والے قبائلی لشکروں کو مکمل تعاون فراہم کرے گی تاکہ شدت پسندوں کا صفایا کیا جاسکے۔ آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا کہ ملکی سلامتی سے کسی کو بھی کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

News image
اسفند یار ولی ایوانِ صدر میں
 اسفندیار ولی خودکش حملے کے بعد صدر آصف علی زرداری کی درخواست پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد آ گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق وہ ایوان صدر میں قیام پذیر ہیں۔

ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق اسفند یار ولی نے اپنے اوپر ہونے والے خود کش حملے کی تفصیل سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ جس پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ ملک کی پاپولر سیاسی قیادت پر وار ہے اور اُسے سب کو مل کر ناکام بنانا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے اسفند یار ولی پر ہونے والے حملے کی مذمت کی اور تحقیقات میں فوج کی مدد فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا۔

واضح رہے کہ عید کے دوسرے روز ولی باغ میں جب اسفند یار ولی جب لوگوں سے عید مل رہے تھے تو ایک خود کش حملہ آور نے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن اسفند یار ولی کے محافظوں نے بمبار کو آگے جانے نہیں دیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑادیا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حملے کے بعد صدر آصف علی زرداری کی درخواست پر اسفند یار ولی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد آ گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق وہ ایوان صدر میں قیام پذیر ہیں۔

اسی بارے میں
معمول یا خوشنودی کی کوشش؟
30 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد