بریفنگ: مسلم لیگ کا عدم اطمینان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی اب تک کی کارروائی پر عدم اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے اس اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی اور اس پر عمل کے طریقہ کار کی وضاحت کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن نے جمعرات کے روز ہونے والے اجلاس سے کچھ توقعات وابستہ کر رکھی ہیں کہ ارکان کے سوالات کے جواب کے دوران اس پالیسی کے بارے میں مزید وضاحت ہو سکے گی جسکے تحت ملک کے شورش زدہ علاقوں میں فوجی کارروائی کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی جانب سے قومی سلامتی سے متعلق امور پر پارلیمنٹ کو دی جانے والی اس بریفنگ میں مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ پارٹی سربراہ میاں نواز شریف خصوصی دعوت پر شریک ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی جسے، گزشتہ روز ایوان کی کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا، آدھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ساڑھے گیارہ بجے کے قریب جمعرات کے روز دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ بدھ کے اجلاس میں جنرل پاشا نے ارکان کو سوات اور قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشن کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ اس بریفنگ کی جو تفصیل بعض اخبارات میں شائع ہوئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو بھی تقریباً انہی خطوط پر تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جن سے چند روز قبل جنرل پاشا نے صحافیوں کو اسی نوعیت کی ایک ’آف دی ریکارڈ’ بریفنگ میں آگاہ کیا تھا۔ اس میں بعض نئی باتیں بھی ہیں جنکا تعلق پاک۔افعان سرحدی معاملات سے ہے۔ مثلاً جنرل احمد شجاع پاشا نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ گزشتہ آٹھ برس میں افغانستان میں تعینات اتحادی افواج نے پینتیس مرتبہ پاکستانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ انکا کہنا تھاکہ پاکستان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی نہیں ہے جس کے ذریعے جاسوس طیاروں کی پروازوں کو مانیٹر کیا جا سکے یا ان کے خلاف کوئی کارروائی ممکن ہو۔ اس بریفنگ کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کی سابق حلیف جماعت کے ترجمان صدیق الفاروق نے بتایا کہ انکی پارٹی کی قیادت نے اجلاس میں شرکت کے بعد اس میں دی جانے والی فوجی بریفنگ کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ’بریفنگ کا معیار غیر معمولی نہیں تھا لیکن اگر حکومت اس اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں مشترکہ پالیسی تیار کرنے اور نئی ٹیم کے ذریعے اس پر عمل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بڑی کامیابی ہو سکتی ہے’۔ اس سے قبل پارلیمنٹ کے ممبر پروفیسر خورشید نے اجلاس میں شرکت کے بعد بتایا تھا کہ یہ اجلاس دو سے تین روز جاری رہے گا۔ ملکی سلامتی سے متعلق امور پر بریفنگ کے لیے بلائےگئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو حزب اختلاف کے ارکان کی تجویز پر ایوان کی ’مشترکہ کمیٹی‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس کمیٹی میں ملکی سلامتی کے امور بحث آئندہ ہفتے بھی جاری رہے گی۔ پروفیسر خورشید کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ ایوان کو’ کمیٹی‘ میں بدلنے کا مقصد قواعد کی خلاف ورزی سے بچنا ہے کیونکہ آئین کے تحت صدر مملکت کے علاوہ کوئی دوسری شخصیت مشترکہ اجلاس سے خطاب نہیں کر سکتی۔ ملکی منتخب قیادت کے لیے ’بند کمرے‘ کے اجلاس کا اہتمام صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر کیا گیا تھا جہنوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کو صوبہ سرحد اور شمالی علاقوں میں جاری لڑائی کے بارے میں بہت جلد زمینی حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔ پروفیسر خورشید نے بتایا کہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے حاضرین سے رازداری کا حلف بھی لیا۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ تیسرا موقع ہے جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے لیے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں امتناع قادیانیت آرڈیننس پر پارلیمنٹ کے بند کمرے میں بریفنگ کا بندوبست کیا گیا تھا جبکہ انیس سو چھیاسی میں وزیراعظم محمد خان جونیجو نے افغانستان سے متعلق ہونے والے جینیوا معاہدے کے بارے میں ارکان پارلیمنٹ کے لیے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ منعقد کی تھی۔ | اسی بارے میں پارلیمنٹ:’ان کیمرہ‘ بریفنگ دوسرا دن 08 October, 2008 | پاکستان پارلیمنٹ:بند کمرے میں اجلاس طلب04 October, 2008 | پاکستان ’طالبان معاشرے کے لیے کینسر ہیں‘30 September, 2008 | پاکستان کیانی باجوڑ میں، آپریشن پر بریفنگ28 September, 2008 | پاکستان معمول یا خوشنودی کی کوشش؟30 September, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی کا سربراہ کیوں تبدیل؟03 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||