BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 October, 2008, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکیورٹی بریفنگ، ن لیگ مایوس

قومی اسمبلی
پارلیمان کے اجلاس کے سلسلے میں اسلام آباد میں کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کے بارے میں پارلیمان کو دی جانے والی بریفنگ پر حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔


گوجرانوالہ سے پاکستان مسلم لیگ نون کے منتخب رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو اجلاس میں سوال وجواب کے سیشن کے دوران ان کی جماعت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام معاہدے منظر عام پر لائے جائیں جو کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سابق حکومت نے امریکہ یا نیٹو فورسز کے ساتھ کیے تھے۔

معلوم ہوا ہے متعدد اراکین پارلیمنٹ نے حکومت سے اُن معاہدوں کے بارے میں سوالات کیے جو صوبہ سرحد کی حکومت نے سوات اور دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے کیے تھے جن سے بعدازاں انحراف کیا گیا۔

ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے جو سوالات اُٹھائے گئے اُن کے جوابات وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے دیے۔

پاکستان مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اور سابق وزیر قانون خالد رانجھا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ابھی تک جو ارکان پارلیمنٹ کو بریفنگ دی گئی ہے اُس سے ایسا نہیں لگتا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اتفاق رائے سے کوئی پالیسی بنائی جائے گی۔

بحث کا آغاز جمعرات کو ہوگا
 دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے حکومتی بیان کے بعد جمعرات کو اس پر بحث کا آغاز ہوگا اور پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر اس بحث کا آغاز کریں جس کے بعد ارکان پارلیمنٹ اس بحث میں حصہ لیں گے اور یہ اجلاس مذید چار روز تک جاری رہے گا

معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کے دوران فاٹا سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نے وزیر اطلاعات شیری رحمان کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انگریزی میں تقریر کی ہےاور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ تقریر غیر ملکیوں کے لیے کی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے حکومتی بیان کے بعد جمعرات کو اس پر بحث کا آغاز ہوگا اور پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر اس بحث کا آغاز کریں جس کے بعد ارکان پارلیمنٹ اس بحث میں حصہ لیں گے اور یہ اجلاس مذید چار روز تک جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کو پہلے فوج نے قبائلی علاقوں میں جاری سیکورٹی فورسز کے آپریشن اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی تھی جس کے بعد وزیر اطلاعات شیری رحمان نے حکومتی پالیسی کے حوالے سے ارکان پارلیمنٹ کو آگاہ کیا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ بند کمرے میں ہونے والے اس اجلاس کو اوپن کردیا جائے۔

اسی بارے میں
معمول یا خوشنودی کی کوشش؟
30 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد