ان کیمرہ بریفنگ: سخت سکیورٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ملکی سلامتی کی صورتحال پر بند کمرے کے اجلاس کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے خصوصی حفاظتی دستوں کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات سونپے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ پارلیمنٹ ہاؤس کو جانے والی شاہراہ دستور کو گزشتہ رات پاک فوج کی مدد سے سکین کرنے کے بعد سیل کر دیا گیا ہے اور وہاں صرف مجاز حکام کو جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر صبح ہی سے اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ وفاقی پولیس کے خصوصی حفاظتی دستے تمام اہم شاہراہوں اور مقامات پر تعینات ہیں اور شہر بھر میں گاڑیوں کی جگہ جگہ روک کر تلاشی لی جا رہی ہے۔ خاص طور پر شہر کے اندر آنے والی تقریباً ہرگاڑی کو خصوصی طور پر قائم کردہ ناکوں پر روکا جا رہا ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ ہاؤس کو جانے والی شاہراہ دستور پر بھی غیر معمولی حفاظتی انتظامات ہیں اور صرف سیکریٹریٹ یا دیگر متعلقہ سرکاری دفاتر کو جانے والے افراد کو ریڈ سکیورٹی زون میں واقع اس سڑک پر جانے کی اجازت ہے۔ گو کہ عام تاثر کے برعکس حفاظتی نکتہ نظر سے پاک فوج کو اسلام آباد کے خصوصی حفاظتی زون میں تعینات نہیں کیا گیا ہے لیکن اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شاہراہ دستور اور پارلیمنٹ کے اردگرد کے علاقے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے پاک فوج کی تکنیکی مدد لی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران ارکان پارلیمنٹ اور دیگر سترہ مہمانان خصوصی کو ملکی سلامتی سے متعلق امور پر بریفنگ دیں گے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے اس اجلاس میں شرکت کے لیے سترہ ایسے افراد کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے جو پارلیمنٹ کے ارکان نہیں ہیں۔ ان میں چاروں صوبوں کے وزار اعلیٰ اور گورنر صاحبان کے علاوہ مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف، امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی شخصیات محمود خان اچکزئی، عطااللہ مینگل اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ شامل ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کون سے مہمان اجلاس میں شرکت کریں گے لیکن تا حال مسلم لیگ کے سربراہ کی جانب سے شرکت اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی جانب سے عدم شرکت کے اعلانات سامنے آ چکے ہیں۔ نواز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی خصوص دعوت میں اس اجلاس میں شرکت کرنا قبول کیا تھا جبکہ قاضی حسین احمد کا، جو اپنی جماعت کی ٹرین مارچ کی قیادت کرتے ہوئے کراچی کی جانب محو سفر ہیں، کہنا ہے کہ وہ بریفنگ دینے والوں سے زیادہ با خبر ہیں اس لئے انہیں اس بریفنگ میں شرکت کی ضرورت نہیں ہے۔ حال ہی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس یا (آئی ایس آئی) کے سربراہ تعینات ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا پاک فوج کے ملٹری آپریشنز کے سربراہ کے طور پر پارلیمنٹ کے اجلاس کو بریفنگ دیں گے۔ اس بریفنگ کے بعد سوال و جواب کے لیے بھی وقت مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم غیر ارکان، یعنی ایسے مہمان جو ارکان پارلیمنٹ نہیں ہیں بلکہ خصوصی دعوت پر اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں وہ سوالات پوچھنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ تیسرا موقع ہے جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے لیے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں امتناع قادیانیت آرڈیننس پر پارلیمنٹ کے بند کمرے میں بریفنگ کا بندوبست کیا گیا تھا جبکہ انیس سو چھیاسی میں وزیراعظم محمد خان جونیجو نے افغانستان سے متعلق ہونے والے معاہدہ جینیوا کے بارے میں ارکان پارلیمنٹ کے لیے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ منعقد کی تھی۔ اسی سے ملتے جلتے ایک اور اجلاس کا انعقاد انیس سو اٹھانوے میں کیا گیا تھا جس میں کابینہ کے بعض ارکان کے علاوہ بڑی تعداد میں ارکان پارلیمنٹ اور ملک کی اہم سیاسی شخصیات کو بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پاکستان کی پالیسی کی تیاری کے حوالے سے بریفنگ دی گئی تھی۔ تاہم اسے کابینہ کے خصوصی اجلاس کا نام دیا گیا تھا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ اور ان کی اتحادی افواج کی جانب سے افغانستان میں شروع کردہ دہشتگردی کے خلاف سات سالہ جنگ کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ پارلیمان کو اعتماد میں لینے کے لیے بند کمرے میں بریفنگ دی جا رہی ہے۔ حکومت نے اس بریفنگ کا اہتمام صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر کیا ہے۔ صدر نے بیس ستمبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں حکومت کو یہ ہدایت کی تھی۔ بریفنگ کے موقع پر پارلیمان کے ضروری عملے کے اہلکاروں کے علاوہ کسی کو پارلیمنٹ کی عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ان کیمرہ بریفنگ کی تیاریاں07 October, 2008 | پاکستان پارلیمنٹ:بند کمرے میں اجلاس طلب04 October, 2008 | پاکستان ’طالبان معاشرے کے لیے کینسر ہیں‘30 September, 2008 | پاکستان کیانی باجوڑ میں، آپریشن پر بریفنگ28 September, 2008 | پاکستان معمول یا خوشنودی کی کوشش؟30 September, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی کا سربراہ کیوں تبدیل؟03 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||