ان کیمرہ بریفنگ کی تیاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کو ملکی سلامتی اور قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بارے میں بدھ کو دی جانے والی بریفنگ کے انتظامات مکمل کرلیےگئے ہیں۔ فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کےمطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں گے۔ جنرل احمد شجاع پاشا کو کچھ روز پہلے ہی آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جنرل احمد شجاع پاشا جو پاکستان فوج میں بطور ڈائریکٹر جنرل قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں اور سرحدوں پر ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، وہ پاکستان کو لاحق اندرونی و بیرونی خطرات اور قومی مفادات کے تقاضوں کے بارے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین کو بریفنگ دیں گے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ اور ان کی اتحادی افواج کی جانب سے افغانستان میں شروع کردہ دہشتگردی کے خلاف سات سالہ جنگ کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ پارلیمان کو اعتماد میں لینے کے لیے بند کمرے میں بریفنگ دی جا رہی ہے۔ حکومت نے اس بریفنگ کا اہتمام صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر کیا ہے۔ صدر نے بیس ستمبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں حکومت کو یہ ہدایت کی تھی۔ بریفنگ کے موقع پر پارلیمان کے ضروری عملے کے اہلکاروں کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں۔ پرنسپل انفارمیشن افسر غلام حضور باجوہ نےکہا کہ میڈیا کو اسمبلی کی عمارت کے اندر یا ارد گرد آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پارلیمان کے اس خصوصی اجلاس کی صدارت کے لیے قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو امریکہ میں اپنی مصروفیات مختصر کر کے واپس وطن پہنچنے کا کہا کہا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ آج رات کسی وقت اسلام آباد پہنچیں گی۔ مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف پارلیمان کے رکن تو نہیں ہیں لیکن وزیراعظم نے انہیں اور محمود خان اچکزئی سمیت بعض سرکردہ سیاسی رہنماؤں کو قومی سلامتی کے بارے میں بریفنگ میں شرکت کی خصوصی دعوت دی ہے۔ انہیں ایوان کی گیلریوں میں بٹھایا جائے گا۔
پارلیمان کا خصوصی مشترکہ اجلاس آخری بار انیس سو اٹھانوے میں جوہری معاملات پر بریفنگ کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ اجلاس دو سے تین روز تک جاری رہا تھا۔ پہلے روز بریفنگ اور بعد میں سوالات جوابات ہوتے رہے تھے۔ پارلیمان کے مشترکہ خصوصی اجلاس سے محض ایک روز قبل یعنی منگل سے ہی سیکورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کیےگئے ہیں۔ ریڈیو پاکستان چوک سے لے کر پی ٹی وی کے دفتر تک شاہراہ دستور خصوصی پاس رکھنے والوں کے علاوہ دیگر کےلیے بند کیا گیا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں سے حزب مخالف کی بیشتر جماعتیں یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے لیکن جب سے حکومت نے بریفنگ کا اہتمام کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو جماعت اسلامی اور جمیعت اہل حدیث سمیت بعض مذہبی جماعتوں نے اُسے فضول قرار دینا شروع کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی سے منسوب بھی ایسے بیانات سامنے آئے ہیں۔ اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے متعلق اتفاق رائے ہونا بظاہر ممکن نہیں ہے کیونکہ مذہبی جماعتیں کبھی اس کی حمایت نہیں کریں گی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ سمیت محمود خان اچکزئی کی جماعت اور بعض بلوچ قومپرست پارٹیاں متفق ہوسکتی ہیں۔ | اسی بارے میں پارلیمنٹ:بند کمرے میں اجلاس طلب04 October, 2008 | پاکستان ’طالبان معاشرے کے لیے کینسر ہیں‘30 September, 2008 | پاکستان کیانی باجوڑ میں، آپریشن پر بریفنگ28 September, 2008 | پاکستان معمول یا خوشنودی کی کوشش؟30 September, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی کا سربراہ کیوں تبدیل؟03 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||