ممبئی پولیس: میڈیا اور پولیس کا کردار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے دو دنوں میں میں سب سے منظم طریقے سے اگر کوئی کام کرتا دکھائی دیا تو وہ تھے شدت پسند اور این ایس جی کے کمانڈوز جبکہ سب سے غیر منظم تھی پولیس اور میڈیا۔ شدت پسندوں کو معلوم تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے اور کیا اور کیسے کرنا ہے۔ ایسا کبھی نہیں لگا کہ انہیں اپنے منصوبے میں کوئی بھی تبدیلی کرنی پڑی اور دوسری جانب ممبئی کی پولیس جس نے شروع میں کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے شدت پسندوں پر قابو پایا جاسکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ سمیت کئی پولیس اہلکار دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ آخر کار جب فوج اور این ایس جی کے دستے جائے وقوع پر پہنچے اور کمان اپنے ہاتھ میں لی تب جاکر کہیں ممبئی پولیس کے چہرے پر سکون دیکھا جاسکا۔ این ایس جی کے کام کا نتیجہ یہ ہوا کہ شدت پسندوں کو گھیرا گیا اور 48 گھنٹوں کے بعد دو مقامات پر آپریشن ختم ہوا۔ جہاں تک پولیس کا سوال ہے تو فوج نے جب حملوں کے مقامات کو اپنے قبضے میں لے لیا تو انہیں بھیڑ کو دور رکھنے کا کام دیا گیا اور پولیس یہ کام بھی ٹھیک سے نہ کرسکی۔ تقریباً 40 گھنٹوں تک ہر آدمی کو تاج پر جانے کی اجازت تھی وہ بھی بنا کسی چیکنگ کے۔ یہی حال اوبرائے اور نریمان ہاؤس پر بھی تھا۔ اتنے گھنٹوں کے بعد جاکر کہیں تاج پر لوگوں کو روکا جانے لگا اور پہلی بار ہمارے شناختی کارڈ دیکھے گئے۔ پولیس کی ہی لاپرواہی تھی کہ اوبرائے میں یر غمال بنائے گئے لوگوں کی رہائی کے وقت بار بار افراتفری کا ماحول بنتا رہا اور یرغمال بنائے گئے لوگوں کو میڈیا نے کافی پریشان کیا۔
اس طرح کے واقعات کے بعد میڈیا کے کردار پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے لیکن اس کے بعد بھی ایسا نہیں لگتا کہ بھارتی ٹی وی چینلوں نے کوئی سبق سیکھا ہے۔ اوبرائے پر جب یرغمال بنائے گئے افراد رہا ہوکر باہر نکل رہے تھے تب جس طرح میڈیا والوں نے تصویروں اور انٹرویو کے لیے ایسا گھیرا جس سے ان کی پریشانی اور بڑھتی ہی دکھائی دی۔ جن کی جان پر بنی وہ میڈیا کے اس سوال کا کیسے جواب دیں کہ ’آپ کو کیسا محسوس ہورہا ہے؟ ‘ جب بعض بیرونی افراد کو رہا کیا گیا تو صحافیوں نے اندھا دھند اپنے مائیک ان کے منہ کے آگے کر دیے۔ ان افراد نے میڈیا سے اتنا ہی کہا انہیں ان کی ’پرائیویسی‘ کا احترام کرنا ہوگا۔ میڈیا کے اس رویے کا یہ نتیجہ ہوا کہ رہا کیے گئے سبھی افراد میڈیا سے بات کرنے میں گریز کرنے لگے۔ بعد میں یہ افراد ان صحافیوں سے بات کررہے تھے جنہیں وہ جانتے تھے یا پھر جن کے بارے میں انہیں امید تھی کہ وہ ان کے لیے کوئی مشکل نہیں کھڑی کریں گے۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||