BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2008, 11:25 GMT 16:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناری من ہاؤس: رہائشیوں پر کیاگزی

حملوں میں زخمی ہونے والی کئی افراد اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں

ممبئی کے کولابہ بازار کی پچے پڑی گلی کا مکان ناری من ہاؤس دیکھنے سے ایسا لگتا ہے جیسے اب یہ کسی بھی وقت گر جائےگا۔ شدت پسندوں کے ساتھ کارروائی کے لیے اس مکان کی چھت پر ہیلی کاپٹر سے کمانڈوز اتارے گئے تھے اور اب اس میں تفتیشی اہلکار اپنا کام کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تفتیشی کارروائی میں اسرائیلی اہلکار بھی شامل ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ناری من ہاؤس میں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ تاج اور اوبرائے میں آپریشن کی کامیابی کے بعد میڈیا کو اس کے قریب جانے دیا گیاہے۔

ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ انہیں اس گھر سے میڈیا کو دور رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اس مکان سے متصل بلڈنگ کے مالک پورن جوشی ہیں جنہوں نے بی بی سی کوبتایا کہ کارروائی کے دوران وہ این ایس جی کمانڈوز کے ساتھ تھے۔’ میں جاوید شیخ کے مکان میں تھا جہاں سے کمانڈوز کی کارروائی ہورہی تھی اور جاوید اور ہم نے ان کی تیس گھنٹے تک مدد کی، کارروائی پوری ہونے پر باڈی نکالنے بھی میں گيا تھا اس میں دو شدت پسند اور چھ اسرائیلی شہریوں کی لاشیں ملیں جس میں سے تین مرد اور تین خواتین تھیں۔گھر وار زون بن چکا تھا‘۔

 پورن جوشی کہتے ہیں کہ مسلسل تین دن تک یہ علاقہ گرینیڈ اورگولیوں کے دھماکوں سےگونجتا رہا تاہم شدت پسندوں نے کسی دوسرے گھر کو نشانہ نہیں بنایا۔ جوشی کہتے ہیں کہ دہشتگردی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ’ یہاں ایسا نہیں لگتا، آس پاس کے مکان اتنے کمزور ہیں کہ اگر وہ کسی بھی گھر پر یہ ایک گرینیڈ پھینک دیتے تو تین سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوسکتے تھے اور اگر دو تین مکان پر مارتے تو پندرہ سو سے زیادہ لوگ نشانہ بن سکتے تھے
پورن جوشی
پورن جوشی کہتے ہیں کہ مسلسل تین دن تک یہ علاقہ گرینیڈ اورگولیوں کے دھماکوں سےگونجتا رہا تاہم شدت پسندوں نے کسی دوسرے گھر کو نشانہ نہیں بنایا۔ جوشی کہتے ہیں کہ دہشتگردی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ’ یہاں ایسا نہیں لگتا، آس پاس کے مکان اتنے کمزور ہیں کہ اگر وہ کسی بھی گھر پر یہ ایک گرینیڈ پھینک دیتے تو تین سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوسکتے تھے اور اگر دو تین مکان پر مارتے تو پندرہ سو سے زیادہ لوگ نشانہ بن سکتے تھے۔‘

پورن جوشی کے مطابق ان کی گلی میں شدت پسندوں کا ٹارگیٹ اسرائیلی شہری تھے۔’ عالمی سطح پر شدت پسندوں کے جو یہودیوں اور امریکیوں کے رشتے ہیں اسی کے تحت یہ مکان نشانہ بنا ہے، وہ امریکہ یا کسی دوسری جگہ یہودیوں کا کچھ نہیں کر پاتے اور اس مکان میں ان کا ایک اہم شخص تھا اس لیے اسے نشانہ بنایاگیا۔‘
جاوید شیخ نے بتایا کہ کارروائی کے دوران انہوں نے این سی جی کے کمانڈوز کی دور بین سے ایک حملہ آور کو دیکھا تھا جس نے پیلے رنگ کی شرٹ پہن رکھی تھی۔’ ہر طرف خوف کا ماحول تھا تاہم ہم نے سکیورٹی کی مدد کرنامناسب سمجھا اور ایسے وقت جب پانی بھی ملنا مشکل تھا ہم نے کمانڈوز کے کھانے پینے کا انتظام کیا۔‘ جاوید نے بتایا کہ انہوں نے اپنی پوری فیملی کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کردیاجو اب واپس آئی ہے۔

اس مکان پر حملے کے بعد آس پاس کے اکثر لوگوں نے دوسری جگہوں پر پناہ لے رکھی تھی جو اب آہستہ آہستہ واپس آرہے ہیں۔ سریکھا کاملے کہتی ہیں کہ ’ خوف کے سبب ہم سب گھر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور پھر ہمیں ایک جگہ رکھا گیا تھا آج صبح واپس آئے ہیں لیکن سب ڈرے ہوئے ہیں۔‘

سنیتا پانڈے کہتی ہیں کہ انہوں نے پڑوس میں جو کچھ دیکھا اسے وہ زندگي میں کبھی نہیں بھلا سکتیں۔ ’ واپس تو آگئے ہیں لیکن اب گھر میں سبھی سہمے ہوئے ہیں اور بچے تو باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے، ایسا لگتا ہے کہ کہیں پھر کچھ نا ہوجائے۔‘

آکاش نے اس محلے سے لوگوں کو باہر نکالنے میں مدد کی تھی وہ کہتے ہیں کہ اب لوگ آنے لگے لیکن اس جگہ سراسیمگی کا ماحول ہے۔ ’ یہاں جو دہشت پھیلی ہے اس کے جانے میں کافی وقت لگے گا ہے، باہر سے اگر کوئی آواز آتی ہے لوگوں کے کان کھڑے ہوجاتے اور سب اندر سے بہت ڈرے ہوئے۔ ‘

ناری من ہاؤس کے آس پاس مصروف ترین بازار ہے جو تین دن تک مکمل بند رہا ہے لیکن آج کچھ دکانیں کھلی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آرہی ہے۔

میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)افروز کوکچھ پتہ نہیں
کم سن افروز کے والدین اور کئی عزیز نہیں رہے
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)’موت کا بلاوا تھا‘
اخلاق اسی روز نوکری ڈھونڈتے ممبئی آیا تھا
تاج ہوٹلتاج ہوٹل ایکشن
ممبئی حملے: کارروائی کا آخری روز
وہ ساٹھ گھنٹے ۔ ۔
جب ممبئی کی روح یرغمال بنی ہوئی تھی
تاج کے کبوتر۔۔۔
تاج ہوٹل پر کارروائی میں کبوتروں پر کیا بیتی؟
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد