ساٹھ گھنٹے: ممبئی کی روح یرغمال رہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے بعد وہاں بتائے گئے ساٹھ گھنٹوں کو شاید میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ اگر ممبئی میں خاص طور سے تاج ہوٹل میں ہونے والے تصادم کا موازنہ اگر امریکہ کے 11/9 سے کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ دونوں ہی حملے ان جگہوں پر کیے گئے جو دنیا بھر میں اس شہر کی شناخت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ جمعرات کو جب پہلی فلائیٹ سے ممبئی پہنچا تو میں پہلے تاج ہی پہنچا لیکن تب تک تاج شدت پسندوں کے پہلے حملے کا پہلا وار ہو چکا تھا۔ میڈیا وہاں پہنچ چکا تھا اور دیکھنے والوں کی بھی بھیڑ لگی تھی۔ دن چڑھنے لگا ہوٹل میں خاموشی تھی صرف صحافی کمیرہ مین پر چلا رہے تھے۔ لیکن رات ہوئی تو وہ لڑائی کئی گھنٹوں بعد جاکر بند ہوئی۔ ایک بار پھر چھائی ہوئی خاموشی کے لمحے سبھی پر بھاری گزرے ہونگے۔ اس دوران میں بار بار تاج کے پیچھے نریمن ہاؤس اور اوبرائے جاتا رہا لیکن دل تاج میں ہی اٹکا رہا۔ تقریبا 105 سال پرانے تاج ہوٹل میں شدت پسند بار بار آگ لگاتے رہے یوں لگتا تھا جیسے وہ ساری دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہوں کہ وہ ممبئی کی شیبہ خراب کر رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے بعد میں بتایا کہ وہ فوج کو روکنے کے لیے آگ لگا رہے تھے۔ آپریشن چلتا رہا اور اس درمیان صحافی، کمیرہ مین، پولیس اہلکار اور چائے بیچنے والوں میں ایک رابط قائم ہوگیا تھا۔ جمعہ کی شام کو جب تباہ کن فائرنگ کا دور شروع ہوا تو صحافی پیچھے آگئے۔ تاج کی ایک کھڑی کا شیشہ ٹوٹ کر گرا اور ایک صحافی زخمی ہوگیا۔ جب تھوڑا امن ہوا تو طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ ٹاٹا کے لیے یہ سال ٹھیک نہیں ہے۔
ہوٹل کے باہر کسی طرح کی معلومات نہیں مل رہی تھیں لیکن لگ رہا تھا کہ پولیس کو بھی شاید ہی کوئی خبر تھی کیونکہ وہ تماشائی بن کر بیٹھے تھے۔ سنیچر کی صبح میری حالت بہت اچھی نہیں تھی۔ میں رات بھر کا جاگا ہوا تھا لیکن من میں تھا کہ جب آپریشن ختم ہوگا میں وہاں ضرور رہوں گا۔ صبح کا پہلا ریڈیو پروگرام کرنے کے بعد وہاں بیٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی اور زندگی میں پہلی بار میں بیٹھے بیٹھے سو گیا۔ لیکن ایک چائے والی کی نظر مجھ پر پڑی اور اس نے کہا چائے پی لیجیے شاید آپ تھک گئے ہیں۔ چائے کی پہلی چسکی لیتے ہی ہوٹل سے گولیوں کی تیز تیز آوازیں آنی لگیں۔ اس بار یہ آوازیں بہت تیز تھیں۔ ہوٹل کے پہلی منزل پر آگ لگ چکی تھی لیکن گولیاں تھم نہیں رہی تھیں۔ تھوڑی افراتفری میں مجھے بی بی سی انگریزی سروس کے صحافی مارک ڈیمٹ کی آواز سنائی دی 'بی بی سی ہندی ۔۔ نیچے بیٹھ جاؤ اپنا خیال رکھو'۔ میں بھول گیا تھا کہ سارے صحافی زمین پر لیٹ چکے تھے اور اکیلا میں کھڑا تھا۔ میری جان تو بچ گئی لیکن شدت پسند نہیں بچ پائے۔ کچھ دیر میں آپریشن ختم ہوگیا۔ شدت پسندوں کی جان گئی اور اسی کے ساتھ ممبئی والوں کی جان میں جان آئی۔ پورے ساٹھ گھنٹوں میں ممبئی اور ساری دنیا نے ایک ہولناک خواب دیکھ تو لیا لیکن بس ڈر اس بات کا ہے کہ یہ ملک، یہاں کے لوگ اور خاص طور پر سیاسی لیڈر اس برے خواب کو بھلا نہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو ہم ایسے برے خواب بار بار دیکھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||