صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی |  |
 | | | اٹھارہ لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جن میں نو غیر ملکی ہیں |
بارہ سالہ افروز ممبئی کے جے جے ہسپتال کے وارڈ نمبر سترہ میں موت سے نبردآزما ہیں۔ ان کا تعلق ریاست بہار کے نوادہ ضلع سے ہے اور ممبئی وہ اپنے ابّـا کے ساتھ گھومنے آئے تھے۔ وہ پانچویں کلاس کے طالب علم ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب وہ بی ٹی سٹیشن پر ٹرین کا انتظار کر رہے تھے اس وقت گولیاں چلنے اور بم دھماکے کی آوازیں آئیں۔ ’میرے جسم پر کئی جگہ زخم آئے ہیں۔ بھائی کہتے ہیں کہ بم کے چھرّے لگے ہیں‘۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا وہاں کسی اور زخمی کو انہوں نے دیکھا تھا یا پھر اس وقت کے ماحول کے بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں، تو ان کا جواب تھا ’اس کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں معلوم ہے۔ اس کم سِن بچے کو حقیت میں ابھی یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ اس کے والدین، ماموں، بہن، بہنوئی اور ایک بھائی اسی جگہ گولیوں کا نشانا بنے تھے اور اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے ماموں زاد بھائی منصور ان کی تیمار داری کر رہے تھے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افروز نے تین دن کے بعد آج بولنا کیا ہے اور ظاہر ہے انہیں ابھی کیسے بتایا جائے کہ اس دنیا میں ان کے سب سے پیارے لوگ نہیں رہے‘۔ منصور کا کہنا تھا کہ افروز کے بڑے بھائی یہیں ممبئی میں کام کرتے ہیں اور ان کے اہل خانہ ممبئی گھومنے آئے تھے۔ ’پورا خاندان واپس جا رہا تھا تھبی پولیس  | بڑا بھائی پریل ہسپتال میں ہے  افروز کا ایک بڑا بھائی پریل ہسپتال میں داخل ہے اور اس کی بھی حالت اچھی نہیں ہے۔ یہی بڑا بھائی ممبئی میں کام کرکے پیسے کماتا تھا جس سے اس کے تین چھوٹے بھائی سکول میں پڑھ رہے تھے  منصور |
اور اور حملہ آوروں کے درمیان کافی دیر تک فائرنگ ہوئی وہ چھ لوگ وہیں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے اور پوسٹ مارٹم کے بعد یہیں ممبئی میں ہی ان کی آخری رسومات اد کردی گئیں ہے‘۔ افروز کا ایک بڑا بھائی پریل ہسپتال میں داخل ہے اور اس کی بھی حالت اچھی نہیں ہے۔ یہی بڑا بھائی ممبئی میں کام کرکے پیسے کماتا تھا جس سے اس کے تین چھوٹے بھائی سکول میں پڑھ رہے تھے۔ |