BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 November, 2008, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شواہد ملنے تک کوئی نہیں جائیگا

گیلانی
وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ حکومت موجودہ صورتحال سے عوام اور سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ رابطے کرے گی
وفاقی کابینہ نے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ کو ممبئی میں دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک بھارت اس واقعہ کے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرتا اُس وقت تک تفتیشی ادارے کے کسی بھی اہلکار کو بھارت نہیں بھیجا جائے گا۔

سنیچر کواسلام آباد میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اس غیر معمولی اجلاس میں ممبئی میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی کابینہ نے ممبئی حملوں کی مذمت کی اور ان حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا بھارتی الزام مسترد کردیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت موجودہ صورتحال سے عوام اور سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ رابطے کرے گی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو بھارت کا دورہ مختصر کرکے وطن واپس پہنچے کابینہ کے ارکان کو اپنے دورہ بھارت کے بارے میں بریفنگ دی۔

بعدازاں کابینہ کے اجلاس کے بعد دفتر خارجہ میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کابینہ نے نہ صرف ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی ہے بلکہ اُنہیں اس ضمن میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ممبئی بھارت کا تجارتی مرکز ہے جو چار روز سے بند پڑا ہے جس کی وجہ سے تاجروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔

ہر قیمت پر تحفظ
 کشیدگی میں کمی پاکستان اور بھارت کے مفاد میں ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہم اپنے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔
وزیر خارجہ

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے ممبئی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں مدد دینے کے لیے پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکار کو بھارت بھیجنے کے باضابطہ درخواست نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ خود بھارتی حکام ابھی تک اس واقعہ کے حقائق نہیں جان سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں بھارت کے ساتھ ہے اور دہشت گردی دونوں ملکوں کی مشترکہ دشمن ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کی سیاسی قیادت کے ساتھ مستقل رابطہ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بہتری کی اُمید کرنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی بھی کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان مسلم لیگ نواز اور سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کی قیادت سے رابطہ کیا ہے اور اُنہیں موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشیدگی میں کمی پاکستان اور بھارت کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہم اپنے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔

کابینہ کے اجلاس سے پہلے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اورآرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں ممبئی میں دہشت گردی کے واقعہ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے جمعے کے روز بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی درخواست پر ڈی جی آئی آیس آئی کو ممبئی حملے کی تفتیش میں مدد دینے کے لیے بھارت بھیجنے کے حکومتی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کی وزارت داخلہ کے حکام کے درمیان انسداد دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام سمیت متعدد امور پر مذاکرات کا پانچواں دور گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہوا جس میں انسداد دہشت گردی میں تعاون سمیت کئی دیگر اہم مسائل پر بات ہوئی۔

اس کے علاوہ سرکریک پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ممبئی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے پہلے ملتوی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
ممبئی حملے، پاکستان کی مذمت
27 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد