پاکستان: آئندہ چند روز کافی اہم ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے پیش نظر بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اکثر ماہرین دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کے امکانات تو نہیں دیکھتے لیکن ان کے خیال میں کشیدگی کی کمی میں سفارتی کوششیں ہی کارآمد ثابت ہوں گی۔ پاکستانی قیادت ممبئی کے حملوں کے بعد سے کافی متحرک نظر آ رہی ہے۔ صدر اور وزیراعظم عالمی رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں جب کہ اقوام متحدہ کو بھی خط لکھا گیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی عالمی رہنماؤں سے گزشتہ دو دنوں سے مسلسل رابطے کر رہے ہیں۔ ان میں افغان صدر حامد کرزئی، فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے ٹیلیفون کے ذریعے تازہ رابطے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ چیک جمہوریہ، ترکی اور جرمنی کے رہنماؤں نے بھی وزیراعظم سے حالیہ کشیدگی پر بات کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون نے سکریٹری جنرل بان کی مون کو ایک خط میں عالمی ادارے سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے شدت پسند اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
سابق سفارت کار مشتاق احمد مہر کے مطابق پاکستان کو زیادہ فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ ’ہمیں بھرپور سفارتی کوششیں کرنی چاہیں اور دنیا کے سامنے اپنا موقف واضح کرنا چاہیے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ ہمیں سفارتی وفود اور نمائندے روانہ کرنا چاہیں۔ ہمیں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل تک براہ راست جانا چاہیے‘۔ ماہرین کے مطابق جن ممالک کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں وہ سب اہم ہیں لیکن ان سب میں اہم ترین امریکہ ہے۔ کراچی میں بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر ہمہ بقائی کا کہنا ہے ماضی میں بھی امریکہ نے کشیدگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’دو ہزار ایک میں بش انتظامیہ کی متحرک سفارتی کوششیں دیکھی تھیں۔ کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملے کے بعد میں متحرک امریکی سفارتی کوششیں دیکھی تھیں۔ اس ساری ایکویشن میں امریکہ ہی اہم پوزیشن میں ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اس موقع پر بھارت کو قابو میں رکھ پائے گا یا نہیں۔ میرے خیال میں آنے والے وقتوں میں ہم نئی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو یہاں زیادہ دیکھیں گے‘۔ لیکن مشتاق احمد مہر کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت کسی کی مدد کرنے کی حالت میں نہیں۔ ’وہ علاقے میں افغانستان میں شکست کھا رہا ہے۔ وہ کسی کی مدد کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اسی لیے ابھی تک نہ بھارت اور نہ پاکستان نے امریکہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ بیس جنوری تک جب نئی انتظامیہ اقتدار سنبھالے گی کوئی بڑا قدم اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ سفارت کے علاوہ میڈیا کی سطح پر بھی پاکستان نے اپنی بات دنیا تک پہنچانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ صدر کی جانب سے بھارت کو کشیدگی نہ بڑھانے کے مشورے پر مبنی کئی انٹرویوز کے علاوہ پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی نے بھی ایک خبر جاری کی ہے جس میں اس کے مطابق چین نے پاکستانی قیادت کو کسی بھی صورتحال میں اپنی مکمل اقتصادی اور اخلاقی حمایت کا یقین دلایا ہے۔
تاہم اس خبر میں یہ نہیں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پیغام کس چینی حکمراں نے کس پاکستانی رہنما کو بھیجا ہے۔ خبر کے مطابق چینی قیادت پاکستان کی ضروریات کے اعتبار سے اسے امداد مہیا کرنے کے لیے مسلسل اس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ پاکستانی ماہرین چین سے رابطے کو پاکستان کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں لیکن پاکستان اب تک کی سفارتی کوششوں میں بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں ملک کی مغربی سرحد پر تعینات فوج میں کمی کو ایک اہم کارڈ کے طور پر کیش کر رہا ہے اگرچہ بھارتی ماہرین اسے پاکستانی ’بلیک میل‘ قرار دے رہے ہیں۔ ’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر امریکہ بھی بےبس نظر آسکتا ہے‘۔ اسی وجہ سے شاید ڈاکٹر ہمہ بقائی جیسے ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کے خیال میں برس ہا برس کی کشیدگی اور جنگوں نے دونوں کو کم از کم اس بات پر مہارت ہے کہ کہاں تک دباؤ ڈالنا ہے اور کہاں رک جانا ہے۔ ’سفارتی جنگ ہوسکتی ہے۔ پاکستان پر زبردست سفارتی دباؤ بھارت ڈال سکتا ہے تاکہ اپنے کچھ مطالبات منوا لے لیکن وہ لڑائی کی حد تک نہیں جائے گا۔ وہ شدت پسندوں کے تربیتی کیمپوں کے خاتمے اور مطلوبہ افراد کی حوالگی کا مطالبہ کرسکتا ہے‘۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل پہلے ہی حالیہ کشیدگی سے متاثر ہوچکا ہے۔ تاہم بعض مبصرین کے مطابق مذاکراتی عمل میں پیش رفت اتنی سست تھی کہ اس کے مخالفین کو اس کے خلاف بولنے کا موقع مل رہا تھا۔ بعض لوگوں کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے حالیہ دنوں میں بھارت سے متعلق کافی اہم اعلانات کیے تھے جن سے ان کی سوچ کی عکاسی ہوتی تھی۔ تاہم کئی لوگ ان بیانات پر بھی تنقید کر رہے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت اس خطے کو اگر جنگ سے کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ سفارتی کوششیں ہی ہیں اور اس بابت آئندہ چند روز کافی اہم ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||