کیا حملہ آوروں کو صرف شہرت کی تلاش تھی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں حملے کرنے والوں کا مقصد قتل و غارت تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتےتھے کہ رائے عامہ کے علاوہ حکومتوں اور ذرائغ ابلاغ کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آئے۔ یہ کہنا ہوگا کہ اس مقصد میں دہشت گرد پوری طرح کامیاب رہے ہیں۔ شروع سے ہی یہ خبر عالمی ذرائع ابلاغ میں چھائی رہی۔ حملوں کے چند ہی منٹ کے اندر ٹی وی کی سکرینوں پر اندوہ ناک مناظر دیکھے جاسکتے تھے۔ کہیں خون تو کہیں آگ کی لپٹوں میں دہکتا ہوٹل اور کہیں مسکراتے ہوئے حملہ آوروں کی تصاویر۔ پلک جھپکتے ہی ماہرین ان حملوں کے ہر پہلو پر تبصرے کر رہے تھے: حملے کے پیچھے کس تنظیم کا ہاتھ ہوسکتا ہے، جو طریقہ کار استعمال کیا گیا وہ کس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سوال جتنے زیادہ تھے جواب اتنے ہی کم۔ دہشت گردوں کی حکمت عملی کیا تھی، ہتھیار کونسے تھے، کہاں سے حاصل کیے ہوں گے، کتنی تیاری کی ضرورت پڑی ہوگی، کتنا پیسہ لگا ہوگا، کون تھے یہ لوگ، ان کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، اور کیا ان حملوں کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ تھا؟ دہشت گردوں کا مقصد اسی طرح پورا ہوتا ہے۔ حملہ صرف ایک حصہ ہوتا ہے، باقی کام رد عمل سے پورا ہوتا ہے۔ حملہ کس طرح کیا گیا، نشانے پر کون تھا، اس سب کی اہمیت کم یا بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ توجہ اس بات پر رہ جاتی ہے کہ حملے کا اثر کتنا ہوا اور اسے کتنی توجہ ملی۔
اور کوئی شبہہ نہیں کہ اس حملے کا اثر ہر شعبے پر محسوس کیا گیا۔ سیاست میں، تجارت میں اور یہاں تک کے سپورٹس میں بھی۔ اور علاقائی، قومی اور بین الاقوامی ہر سطح پر۔ لیکن اس پورے ہنگامے سے ذرا پیچھے ہٹ کر دیکھیں، تو تصویر کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔ اور وہ یہ کہ بات شاید اتنی بڑی نہیں تھی جتنی کہ حکومت کی عجلت اور جوابی کارروائی کی شدت سے بن گئی۔ حملے سے پہلے کسی نے دکن مجاہدین کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ شاید اس لیے کہ ان کا کوئی وجود تھا ہی نہیں۔ اور شاید اس حملے کو عملی جامہ پہنانا اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ بتایا جارہا ہے۔ چھوٹے ہتھیار اور دستی بم حاصل کرنا مشکل نہیں، کشتیاں جگہ جگہ دستیاب ہوتی ہیں اور ممبئی میں ایسے مقامات کی کمی نہیں جنہیں آسانی سے نشانہ بنایا جاسکے۔ اور شاید حملہ آوروں کے بارے میں ہمیں زیادہ اس لیے معلوم نہیں کہ ان کا تعلق کہیں سے بھی ہوسکتا ہے۔
حملہ آوروں نے اپنے چہرے چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ تو کیا حملہ آور شہادت کے لیے اپنی جان دے رہے تھے یا شہرت کے لیے۔ اور شاید ان کے مقاصد کے بارے میں ہمیں اس لیے کچھ معلوم نہیں کیونکہ ان کا کوئی مقصد تھا ہی نہیں۔ ممبئی کے حملوں کی بظاہر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ لیکن بے گناہ لوگوں کا قتل کرنے کے لیے شاید فوجی طرز کی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہوسکتا ہے جس میں میں شاید کوئی واضح مشن یا مقصد ہو ہی نہیں۔ لیکن دہشت گرد شاید یہ مان کر چل رہے ہوں گے کہ اغراض و مقاصد میں جہاں کہیں بھی کوئی کمی ہوگی وہ ذرائع ابلاغ اور تجزیہ نگار پوری کردیں گے۔ اور ایسا ہوا بھی۔ اس پس منظر میں شاید ممبئی کے حملے دہشت گردی کی تاریخ میں ایک نیا موڑ ہیں جو عالمی جہاد کے تصور سے بھی کہیں زیادہ تشویش کا سبب ہونا چاہیے۔ شاید ہم اس موڑ پر پہنچ گئے ہیں جہاں کچھ گمراہ نوجوان خود کو منظم کرکے، چند ہزار ڈالروں میں ہتھیار اور دیگر ساز و سامان خرید کر اور ایک بنیادی سا منصوبہ بناکر اس طرح کی تباہی برپا کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ بس بے وجہ دہشت پھیلاتے ہیں اور باقی لوگ ان کی کارروائیوں کو مقاصد کا جامہ پہناتے ہیں۔ یہی ’سلیبرٹی دہشت گردی‘ ہے یا ایسی دہشت گردی جس کا مقصد شہرت حاصل کرنا ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||