ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
| | ممبئی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو پچانوے ہے |
ممبئی فشرمین کروتی سمیتی کے صدر دامودر تانڈیل نے دعویٰ کیا کہ اگر ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل ان کے تحریر کردہ خط پر سنجیدگی سے غور کرتے تو شاید آج ممبئی محفوظ رہتی اور کئی افراد کو اپنی جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑتا۔ ریاست مہاراشٹر میں فشرمین یونین کے سربراہ دامودر تانڈیل کو گجرات کے فشرمین نے بتایا تھا کہ انہیں شبہ ہے کہ پور بندر کے علاوہ مہاراشٹر کے اطراف بھی سمندر میں ایسی چند بوٹس ہیں جو نئی ہیں جنہیں پہلے نہیں دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ان کی حرکتیں مشتبہ لگ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں جتنی بھی ماہی گیروں کی بوٹس ہیں وہ ان سے واقف ہیں اور نئی بوٹس کی مشتبہ نقل و حرکت تشویشناک ہے۔ اس اطلاع کے بعد دامودر نے فوری طور پر ساحلی علاقے کے ڈپٹی پولیس کمشنر مدھوکر کوہے کو تحریری طور پر یہ ساری تفصیلات دیں۔ تانڈیل کے مطابق وہ چاہتے تھے کہ حکومت اس معاملے کی سنجیدگی سے تفتیش کرے۔ ڈپٹی پولیس کمِنشر کوہے نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ تانڈیل نے نہ صرف انہیں خط لکھا بلکہ انہوں نے اس سلسلہ میں ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ڈی سی پی کوہے کا کہنا تھا کہ پولیس اور حکومت نے اس معاملہ کو اس لیے سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ مہاراشٹر اور گجرات کے ماہی گیروں کے درمیان تنازعہ سن دو ہزار ایک سے چل رہا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی سمندری حدود میں دوسرے دخل اندازی نہ کریں اس لیے اس طرح کی رپورٹ پیش کی تھی۔ ڈی سی پی کوہے کا کہنا تھا کہ اب جب ممبئی پر حملہ ہوا اور پولیس کے مطابق حملہ آور سمندری راستے سے آئے تھے اس لیے تانڈیل اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ پاٹل نے بھی اس سلسلہ میں بیان دیا ہے کہ انہوں نے اس خبر کو دو ریاست کے ماہی گیروں کی حدود کی لڑائی سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔ اس انتباہ سے قبل انٹلیجنس بیورو نے بھی جنوری میں ریاست مہاراشٹر کو آگاہ کر دیا تھا کہ ممبئی پر سمندری راستے سے کبھی بھی دہشت گردانہ حملہ ہو سکتا ہے۔ |