لسٹ بھی پرانی، موقف بھی پرانا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے مبینہ دہشت گردوں کی فہرست ایک بار پھر پاکستان کے حوالے کی ہے جن میں شامل افراد کے بارے میں پاکستان کا موقف بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنی پرانی یہ فہرست۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی سفیر شاہد ملک کے حوالے کی گئی بھارتی فہرست میں انہی بیس افراد کے نام شامل ہیں جنکی حوالگی کا تقاضہ بھارت کئی برسوں سے کر رہا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فہرست وہی ہے جو گزشتہ کئی برس سے ہر بار پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی کشیدگی کے آغاز کے موقع پر پاکستان کے حوالے کی جاتی رہی ہے۔ آخری مرتبہ یہ فہرست نومبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد پاکستان کے حوالے کی گئی تھی۔ ان حملوں کے بارے میں بھی بھارتی حکومت کا خیال تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان میں مقیم شدت پسندوں کا ہاتھ تھا۔ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے، امریکہ کی جانب سے اس بھارتی مطالبے کی حمایت کے باوجود اس فہرست میں شامل کسی فرد کے خلاف ثبوت فراہم کئے جانے تک کوئی کارروائی کرنے سے انکار کیا تھا۔ یہ فہرست جب بھی پیش کی جاتی تو دونوں ملکوں کے درمیان کے ایک تنازعے کا سبب بن جاتی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کا اصرار ہوتا ہے کہ اس میں نئے نام شامل کیے گئے ہیں جبکہ پاکستانی وزارت خارجہ اس سے انکار کرتی ہے۔ البتہ اس میں شامل بعض افراد، مثلاً مولانا مسعود اظہر کو نظر بند کر دیا گیا تھا جو کچھ عرصہ پیشتر ہی بھارتی جیل سے رہا ہو کر پاکستان پہنچے تھے اور یہاں جیش محمد کے نام سے ایک مذہبی شدت پسند تنظیم قائم کر رکھی تھی۔ اس فہرست میں شامل ان بیس افراد کو با آسانی تین گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے نمبر پر بھارتی انڈر ورلڈ کے ارکان آتے ہیں۔ ان مسلمان ’گینگسٹرز‘ کے بارے میں بھارتی تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی میں انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں اور اس کے بعد ممبئی میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ دوسرا گروپ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی کی تحریک میں شامل رہنے والی مختلف جہادی تنظیموں کے افراد ہیں جبکہ تیسرے گروپ میں سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک کے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ ممبئی میں انڈر ورلڈ کے مبینہ’ڈان‘ داؤد ابراہیم اہمیت اور مدت دونوں حساب سے اس فہرست میں پہلے نمبر پر آتے ہیں۔ اس فہرست میں ان کی ’کمپنی’ کے دیگر اہم افراد کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں چھوٹا شکیل، ٹائیگر میمن، ایوب میمن اور عبدالرزاق وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گروپ کی آپس کی لڑائی میں مارے جا چکے ہیں۔ حافظ محمد سعید کی تحویل کا مطالبہ بھی بھارتی حکومت برسہابرس سے کر رہی ہے۔ انیس سو نوے میں انہوں نے لشکر طیبہ کے نام سے جہادی تنظیم قائم کی تھی جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی کی تحریک میں مؤثر ترین جہادی گروپ کا درجہ رکھتی ہے۔ انہیں بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ کشمیر کی علیحدگی کی تحریک سے متعلق جن دیگر افراد کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں متحدہ جہاد کونسل کے سید صلاح الدین اور حرکت المجاہدین کے ظہور ابراہیم مستری بھی ہیں جنہیں انیس سو نناوے میں کھٹمنڈو سے دلی آنے والے بھارتی مسافر طیارے کے اغوا میں ملوث قرار دیا جاتا ہے۔ ودھوان سنگھ ببر، رنجیت سنگھ نیتا، گجیندر سنگھ وغیرہ سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک کے سرگرم راہنما رہے ہیں اور بھارتی ایجنیسوں کا خیال ہے کہ انہیں بھی پاکستان نے پناہ دے رکھی ہے۔ بھارت کو مطلوب حافظ محمد سعید کی تنظیم جماعتہ الدعوۃ کے ترجمان محمد یحییٰ مجاہد نے بیس افراد کی حوالگی کے بھارتی مطالبے کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’انڈیا کو اپنی حثیت نہیں بھولنا چاہیے،وہ نہ تو امریکہ ہے یہ ہی اسے امریکہ جیسا بننے کی کوششیں کرنا چاہیے۔ٰ یحییٰ مجاہد نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ’انڈیا اپنی حرکتوں کی وجہ سے خود جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے۔‘ جماعتہ الدعوۃ کے ترجمان نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندوستان سے ایل کے ایڈوانی،نریندر مودی، بال ٹھاکرے اور بھارتی فوج کے حاضر سروس کرنل پروہت سمیت ان دیگر انتہاپسند ہندو شدت پسندوں کی حوالگی مطالبہ کرے جو ان کے بقول ہزاروں مسلمانوں کے قاتل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید پر تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کوئی جرم ثابت نہیں ہے لیکن بھارتی ایل کے ایڈوانی پر حیدرآباد سندھ میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے قتل کی سازش کی باقاعدہ ایف آئی آر یعنی ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ درج ہے۔ | اسی بارے میں حافظ سعید نامعلوم مقام پر منتقل24 August, 2006 | پاکستان انڈیا کا مفرور ’گینگسٹر‘ ایک نظر میں12 September, 2006 | انڈیا ’ڈان کی واپسی‘ سب مصروف15 November, 2005 | انڈیا مبینہ ڈاکو یا جیشِ محمد کے رکن17 July, 2004 | پاکستان داؤد ابراہیم پر امریکی پابندیاں03 June, 2006 | انڈیا 1993 دھماکے: چار مجرم، ایک بری 12 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||