’ڈان کی واپسی‘ سب مصروف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مافیا سرغنہ ابو سالم کو جب سے ممبئی لایا گیا ہے، پورا پولیس عملہ، ذرائع ابلاغ اور وکلاء کی ٹیم چوبیس گھنٹے سرگرم ہے۔ سالم اس وقت سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی ) کی تحویل میں ہے جہاں اس سے ممبئی کے سلسلہ وار بم دھماکوں کی تفتیش جاری ہے۔ جنوبی ممبئی میں اسے سی بی آئی کے دفتر میں رکھا گیا ہے اور اس علاقہ کو پوری طرح فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ویسے بھی وہ علاقہ ہائی الرٹ زون کہلاتا ہے کیونکہ وہاں تمام کی تمام وزارتوں کے دفاتر اور وزراء کے بنگلے ہیں ۔ عدالت کے حکم کے مطابق سالم کو ہر اڑتالیس گھنٹے کے بعد طبی جانچ کے لئے سینٹ جارج سپتال لے جانے کا حکم ہے جس کی وجہ سے ممبئی پولس سالم کی حفاظت کی وجہ سے کافی دباؤ میں ہے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر (نظم و نسق ) اروپ پٹنایئک کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس کے علاوہ دیگر حفاظتی دستوں کو متعین کیا گیا ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ وکلاء کی پوری ایک ٹیم کونسل اشوک سروگی کی رہنمائی میں چوبیس گھنٹے کام میں مصروف ہے۔لکھنؤ سے وکیل محمد راشد خان ممبئی پہنچ چکے ہیں۔لندن نژاد ایڈوکیٹ ہر جوت سنگھ لزبن کی عدالت میں سالم کے وکیل جان کے ماتحت رہ چکے ہیں اور اشوک سروگی کا کہنا ہے کہ انہیں سنگھ سے ہدایت مل رہی ہے جو بدھ کی صبح تک ممبئی پہنچ رہے ہیں۔ فوجداری معاملات کے وکیل راجیش شری واستو کا کہنا ہے کہ سالم کا کیس بہت حساس کیس ہے اور پوری دنیا کی نظریں اس پر ٹکی ہوئی ہیں اس لئے بہت سے وکلاء کی دلی خواہش ہے کہ وہ یہ کیس لڑیں تاکہ انہیں مقبولیت حاصل ہو۔
سالم کو جب پہلے دن ٹاڈا کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تو یکایک ایڈوکیٹ اویس صدیقی نے اپنی جانب سے وکالت نامہ پیش کر دیا تھا۔ اویس اور اشوک سروگی نے عدالت میں اپیل دائر کی ہے کہ ان کے مؤکل سالم کی سی بی آئی تحقیقات کے دوران انہیں حاضر رہنے کی اجازت دی جائے ۔ٹاڈا جج پی ڈی کوڈے نے درخواست پر فیصلہ سنانے سے قبل وکیے استغاثہ سے اپنا موقف پیش کرنے کے لئے کہا ہے اور اس کا فیصلہ سترہ نومبر ہوگا۔ میڈیا اس انتظار میں ہے کہ سالم کا کوئی بیان منظر عام پر آسکے لیکن جج کوڈے نے سی بی آئی افسران کو میڈیا سے بات کرنے اور سالم کے بیانات کو ان تک پہنچانے سے سختی سے منع کر دیا ہے۔ لزبن کی عدالت نے ممبئی پولس کو صرف دو معاملات میں سالم پر مقدمہ چلانے کی اجازت دی ہے جس میں ٹھیکہ دار پردیپ جین اور منیشا کوئرالا کے سیکریٹری اجیت دیوانی کے قتل کی سازش شامل ہے۔ کمشنر اے این رائے نے بتایا کہ وہ کسی بھی طرح کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتے ہیں اور کیس کو مضبوط کرنے کے لئے انہوں نے دو مختلف پولس ٹیم کی تشکیل کی ہے۔پردیپ جین کیس میں دو افراد کو سزا ہو چکی ہے لیکن اجیت دیوانی کیس ابھی شروع نہیں ہو سکا ہے۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق سالم کو ممبئی لانے کے لئے اب تک پچاس کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ اتنی ہی رقم سالم بھی اپنے وکلاء پر خرچ کر چکا ہے اور اب بھارت میں قانونی لڑائی لڑنے پر اسے بے حساب دولت خرچ کرنی ہو گی کیونکہ اس کے وکلاء لندن سے ممبئی آکر کیس لڑیں گے۔ | اسی بارے میں ابو سالم کون ہے11 November, 2005 | انڈیا سرائے میر، ابو سالم کا آبائی وطن13 November, 2005 | انڈیا ابو سالم، سنجے دت اور پریا دت15 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||