حافظ سعید نامعلوم مقام پر منتقل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہفتہ سے اپنے گھر پر نطر بند جماعت الدعوۃ اور کالعدم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو آج علی الصبح پولیس نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحٰی مجاہد کا کہنا ہے کہ نصف شب کے بعد ایک بجے پولیس ایک نیا حکم نامہ لے کر حافظ سعید کے گھر آئی اور انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔ ترجمان کے مطابق اس موقع پر حافظ سعید کے بیٹے طلحہ سعید کی پولیس سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ترجمان کے مطابق پولیس نے حافظ سعید کے اہل خانہ کو نئے حکم نامہ کی نقل فراہم نہیں کی۔ حافظ سعید کو دس اگست کو لاہور میں ان کے گھر پر نظر بند کیا گیا تھا اور ان کی تنظیم کو یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت منسوخ کردی گئی تھی۔ حافظ سعید کی اہلیہ میمونہ سعید نے ان کی نطر بندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔ حکومت نے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ حافظ سعید شعلہ بیان مقرر ہیں اور امن و عامہ کے لیے خطرہ تھے اس لیے انہیں نظر بند کیا گیا۔ پچیس اگست کو لاہور ہائی کورٹ حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف درخواست کی سماعت کرے گی۔ گزشتہ ماہ جولائی میں بھارت کے ساحلی شہر ممبئی میں ٹرین بم دھماکوں میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد بھارتی حکومت نے حافظ سعید کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کو اس میں ملوث ٹھہرایا تھا اور ان کی نظر بندی کو مثبت اشارہ قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں حافظ سعید کی نظر بندی چیلنج16 August, 2006 | پاکستان ’عالمی عدالت میں جائیں گے‘29 April, 2006 | پاکستان لشکر طیبہ کے سابق سربراہ نظر بند10 August, 2006 | پاکستان جماعت الدعوۃ کے حق میں مظاہرہ09 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||