BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 September, 2006, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا کا مفرور ’گینگسٹر‘ ایک نظر میں
داؤد ابراہیم نے 1986 میں انڈیا چھوڑ دیا تھا
داؤد ابراہیم اس وقت بھارت کے قانونی اداروں کے لیئے مطلوب ترین شخص ہیں۔ داؤد اور ان کے بھائی انیس ابراہیم پر 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے جس میں 257 لوگ مارے گئے تھے جبکہ دیگر 700 زخمی ہوئے تھے۔

خیال ہے کہ یہ بم دھماکے 1992 میں ان فسادات کے انتقام میں کیے گئے تھے جن میں گجرات میں 1992 میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے تھے۔ ان فسادات کا الزام ہندو انتہا پسند تنظیم شو سینا پر عائد کیا جاتا ہے۔

داؤد ابراہیم کا مقدمہ ممبئی کی خصوصی عدالت میں نہیں چلایا گیا کیونکہ عدالت نے پہلے ہی اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور پولیس ریکارڈز میں داؤد ’مفرور ملزم‘ قرار دیئے جاچکے ہیں۔

انڈین حکام کا کہنا ہے کہ 51 سالہ داؤد ابراہیم اب پاکستان میں رہتےہیں اور ان کے مبینہ روابط القائدہ اور کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ساتھ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دہلی نے پاکستان سے انہیں انڈیا کے حوالے کرنے کا بھی کہا تھا۔

پاکستان نے ہمیشہ داؤد کی وہاں موجودگی کی تردید کی ہے۔

امریکہ داؤد ابراہیم کو ’عالمی دہشتگردوں‘ میں شمار کرتا ہے ’جو برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں بڑی تعداد میں منشیات بھی سمگل کرتے ہیں‘ ۔ امریکہ کے مطابق داؤد ایک پولیس کانسٹیبل کے بیٹے ہیں جنہوں نے 2003 میں بھارت میں اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔ امریکہ داؤد کے والد کو بھی ’انڈر ورلڈ‘ مجرموں میں شمار کرتا ہے۔

امریکی حکام داؤد پر اسامہ بن لادن سے تعلقات کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ داؤد نے 1990 کی دہائی میں ’طالبان کی حفاظت میں‘ افغانستان کا دورہ بھی کیا تھا۔

بادشاہ کی سی زندگی
 ’وہ 6000 مربع گز کے پلاٹ پر بنے محل نما گھر میں رہتے ہیں جس کا اپنا سوئمنگ پول، ٹینس کورٹ، جم اور سنوکر روم ہیں۔ وہ ڈیزائنر کپڑے پہنتے ہیں، مہنگی ترین مرسڈیز گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اربوں روپے مالیت کی گھڑیاں پہننے کے ساتھ ساتھ اپنا پیسہ طوائفوں اور فلمی ستاروں پر لٹاتے ہیں۔
غلام حسنین

انڈیا کے سب سے بڑے جاسوسی ادارے سی بی آئی کے مطابق داؤد اپنی شناخت چھپانے کے لیئے 13 مختلف ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔

انڈین حکام کے مطابق داؤد ابرہیم مغربی شہر رتنگری میں پیدا ہوئے تھے اور وہ ایک پولیس کانسٹیبل کے بیٹے ہیں۔ سی بی آئی کے مطابق داؤد کا قد پانچ فٹ چار انچ ہے اور ان کی بائیں ابرو پر کالا تل ہے۔ ادارہ ان پر ’بھتہ لینے، جعل سازی اور دھوکہ دہی‘ کا الزام بھی لگاتا ہے۔

داؤد کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت تھوڑی معلومات مل سکی ہیں۔ پولیس کے مطابق انہیں سکول سے نکال دیا گیا تھا اور انہوں نے کافی عرصے تک انڈرورلڈ کے معروف ’کریم لالہ‘ کے لیئے لوگوں کو قتل کیا۔

1980 اور 1990 میں داؤد ابراہیم انڈر ورلڈ کے ’سرغنہ‘ بن گئے اپنی کھربوں ڈالر کے اثاثے بنالیئے۔ انہیں جوئے، منشیات اور طوائف کے کاروبار سے منسلک کیا جاتا ہے۔

داؤد ابراہیم
دہلی نے پاکستان سے داؤد کو انڈیا کے حوالے کرنے کا بھی کہا تھا

انڈین حکام کا کہنا ہے کہ وہ قانون سے بچنے کے لیئے 1986 میں دبئی چلے گئے تاہم ان کی ’انڈر ورلڈ‘ کارروائیاں جاری رہیں۔

ان کا انڈین فلم انڈسٹری بالی وڈ پر بھی خاصا اثر ہے۔ ان پر کئی فلموں کی فلمسازی اور ان میں کام کرنے کے لیئے چند مخصوص اداکاروں کو پیسے دینے کا الزام بھی ہے۔ داؤد کے ایک دوست کا کہنا ہے ’کوئی بھی ان کی پیشکش رد کرنے کی جرات نہیں کرسکتا‘۔

بالی وڈ سے ان کے تعلقات کا راز اس وقت افشا ہوا جب وہ شارجہ میں کرکٹ میچ کی کوریج کے دوران ٹی وی پر کئی فلمی ستاروں کے ساتھ بیٹھے نظر آئے۔

خلیج کے کئی ممالک نے انڈیا کے ساتھ مفرور مجرموں کو واپس کرنے کا معاہدہ کررکھا ہے اس لیئے حکام کا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں ہیں۔

2001 میں ایک پاکستانی صحافی غلام حسنین نے ان کی شخصیت کے بارے میں لکھا کہ ’وہ پاکستان میں اپنی بیوی، ایک بیٹے اور چار بیٹیوں کے ساتھ ایک بادشاہ کی سی زندگی گزار رہے ہیں‘۔

’وہ 6000 مربع گز کے پلاٹ پر بنے محل نما گھر میں رہتے ہیں جس کا اپنا سوئمنگ پول، ٹینس کورٹ، جم اور سنوکر روم ہیں۔ وہ ڈیزائنر کپڑے پہنتے ہیں، مہنگی ترین مرسڈیز گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اربوں روپے مالیت کی گھڑیاں پہننے کے ساتھ ساتھ اپنا پیسہ طوائفوں اور فلمی ستاروں پر لٹاتے ہیں‘۔

ان کے پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ بھی مبینہ تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ جاوید میانداد ان میں سے ایک ہیں۔ گزشتہ جولائی دبئی میں ایک تکلف تقریب میں جاویدمیانداد کے بیٹے جنید کی شادی داؤد ابراہیم کی بیٹی ماہ رخ ابراہیم کے ساتھ ہوئی۔

تاہم صحافی غلام حسنین کے مطابق داؤد ابھی بھی انڈیا میں گزارے گئے اپنے’اچھے وقتوں‘ کو بھول نہیں پائے ہیں۔

ان کے ایک ساتھی کا کہنا ہے ’ممبئی ممبئی ہے۔ وہاں ہمارے پاس سب کچھ تھا۔ ہر طرح کا عیش و آرام۔ یہاں وہ سب ممکن نہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد