BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 December, 2008, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قومی کانفرنس‘ 58 جماعتیں آمادہ

چوہدری نثار
پاکستان کی حکومت ہو یا حزب مخالف سب کا یہ متفقہ موقف ہے
ممبئی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے متعلق اتفاق رائے کے لیے پاکستان حکومت کی جانب سے بلائی گئی ’قومی سلامتی کانفرنس‘ میں مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی سمیت اٹھاون سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کے لیے رضا مندی ظاہر کردی ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مختصر نوٹس پر میاں نواز شریف، پیر پگاڑہ اور دیگر رہنماؤں سے فون پر مشاورت کے بعد یہ کانفرنس منگل کی دوپہر کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں بلائی ہے۔

کانفرنس سے محض ایک روز قبل حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک وفد نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں وزیراعظم سے ملاقات کی اور ابتدائی مشاورت کی۔

چوہدری نثار علی خان نے بعد میں نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کی حکومت ہو یا حزب مخالف سب کا یہ متفقہ موقف ہے کہ ’ہم کسی ملک کو غیر مستحکم کرنے دین گے یا اس میں تشدد کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔ہم امن چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے حکومتی کانفرنس میں شرکت کا اعلان کیا اور کہا کہ اس فورم سے قوم اور بین الاقوامی برادری کو ایک ایسا واضح پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور غیرت مند ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ ریاستی اداروں کی معرفت فراہم کرے اور حکومت اس پر کارروائی کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بلاجواز پاکستان پر تنقید بند کی جائے اور ذرائع ابلاغ میں معاملات کو اچھالنا بند کیا جائے۔ انہوں نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم جان میجر کا جملہ دوہرایا کہ ’ثبوت پیش کرں یا چپ کریں‘۔ Put up or shut up۔

حزب مخالف کے رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی مشاورت سے فیصلے کرے اور جو بھی فیصلہ ہو اس پر ڈٹ جائے۔ ان کے مطابق پاکستان اور ہندوستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور ان کے پاس امن کے ساتھ رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

اگر حکومت نے ان کے موقف کو اہمیت نہ دی تو وہ ہم خیال جماعتوں کی علیحدہ سے قومی کانفرنس طلب کریں گے (قاضی حسین احمد)

مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما نے کہا کہ دونوں ممالک کی ساٹھ سالہ تاریخ کافی تلخ ہے لیکن ماضی میں کئی لیڈر ایسے بھی آئے جن کی دانشمندی سے یہ خطہ اگر امن کا گہوارہ نہ بن سکا تو میدان جنگ بھی نہیں ہے۔

ادھر لاہور میں ایک نیوز بریفنگ میں جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد نے بھی حکومت کی بلائی گئی کانفرنس میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے موقف کو اہمیت نہ دی تو وہ ہم خیال جماعتوں کی علیحدہ سے قومی کانفرنس طلب کریں گے۔

اسی بارے میں
پاکستان ملوث نہیں: گیلانی
28 November, 2008 | پاکستان
قومی سلامتی کانفرنس منگل کو
30 November, 2008 | پاکستان
ممبئی حملے، پاکستان کی مذمت
27 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد