ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہوئے شدت پسند حملوں میں زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور نے پولیس تحویل میں جو مبینہ اقبالیہ بیان دیا ہے اس کے مطابق انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے تربیتی کیمپ میں ٹریننگ حاصل کی تھی اور یہ ٹریننگ تین علیحدہ مرحلوں میں دی گئی تھی۔ اجمل امیر قصاب سے کئی ایجنسیاں تفتیش کر رہی ہیں ان میں ممبئی کرائم برانچ ، انسداد دہشت گردی کا عملہ یعنی اے ٹی ایس، ممبئی پولیس اور انٹیلیجنس بیورو شامل ہیں۔ایک تفتیشی ایجنسی کی جانب سے حاصل کی گئی اجمل کے مبینہ اقبالیہ بیان کی کاپی بی بی سی کے پاس ہے ۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اجمل پر تعزیرات ہند، اسلحہ قانون اور دھماکہ خیز اشیاء کے قانون کی جن دفعات کے تحت کیس درج ہے ان میں ملزم پولیس حراست میں دیے گئے بیان سے عدالت میں منکر ہو سکتا ہے اس لیے ایسے میں اجمل کے اس بیان کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے۔ لیکن اگر اجمل کے خلاف مہاراشٹر میں نافذ مکوکا قانون کے تحت کیس درج ہوتا ہے تب اس اقبالیہ بیان کی ایک اپنی حیثیت ہو گی کیونکہ اس قانون کے تحت پولیس حراست میں دیا گیا اقبالیہ بیان عدالت میں قابلِ قبول ہوتا ہے۔
اجمل کے بیان کے اقتباسات کے مطابق وہ صوبہ پنجاب پاکستان کے شہر اوکاڑہ کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے سرکاری سکول میں محض چوتھی جماعت تک ہی تعلیم حاصل کی۔ والد سے جھگڑے کے بعد گھر چھوڑ دیا اور سن دو ہزار پانچ تک چھوٹا موٹا کام کیا۔پھر کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کی واردات بھی کی۔ بیان کے مطابق انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ بنگش کالونی راولپنڈی میں ایک فلیٹ کرایہ پر لیا اور ڈکیتی کے لیے نقشہ تیار کیا۔ اس واردات کے لیے اسلحہ کی تلاش کے دوران وہ راولپنڈی کے راجہ بازار میں لشکر طیبہ کے سٹال پر گئے۔ چونکہ انہیں اسلحہ استعمال کرنا نہیں آتا تھا اس لیے انہوں نے اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کرنے کی نیت سے لشکر طیبہ میں شمولیت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجمل کے مطابق انہیں وہاں موجود افراد نے مرکز طیبہ کا پتہ دے کر بھیج دیا۔وہاں موجود افراد نے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد انہیں پہلے اکیس دنوں کی تربیت کے لیے انہیں دارالصفاء نامی ایک مقام پر بھیجا۔ مبینہ اقبالی بیان میں یہ واضح نہیں کہ یہ مقام کس جگہ واقع ہے۔ اجمل کے مطابق انہیں یہاں انہیں نماز پڑھنے کے لیے کہا جاتا جبکہ مفتی سعید نامی ایک شخص انہیں حدیث اور قران پر لیکچر دیتے۔ پولیس کی تحویل میں اجمل کے بیان کے مطابق اس تربیت کے بعد مزید اکیس دنوں کی تربیت کے لیے انہیں مانسہرہ لے جایا گیا جہاں انہیں ہر طرح کا جدید اسلحہ چلانے کی تربیت دی گئی۔ عبدالرحمن نامی ایک شخص نے انہیں اے کے 47 ، اوزی گن، پستول اور ریوالور چلانے کی ٹریننگ دی۔ اجمل کے بیان کے مطابق اس تربیت کے بعد ان سے کہا گیا کہ مزید تربیت سے پہلے انہیں دو ماہ تک خدمتِ خلق کرنی ہو گی۔
مبینہ اقبالی بیان میں اجمل کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ بتیس افراد تھے جن میں سے سولہ افراد کو ایک شخص ذکی الرحمن عرف چاچا نے کسی خفیہ مشن کے لیے منتخب کیا۔ ان میں سے تین تربیت یافتہ افراد فرار ہو گئے جبکہ بقیہ تیرہ میں سے دس کا انتخاب کیا گیا اور انہیں ' کفا ' نامی شخص کے ہمراہ مریدکے کے کیمپ میں بھیج دیا گیا۔وہاں انہیں پیراکی کی تربیت کے ساتھ ہی ' را ' سمیت ہندستانی خفیہ ایجنسیوں کے طریقۂ کار کی معلومات دی گئی اور انہیں ہندستان میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی سی ڈی بھی دکھائی گئی۔ اجمل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ انہیں ایک ہفتے کے لیے اپنے گھر جانے کی اجازت دی گئی اور واپسی کے بعد انہیں ذکی الرحمن کی ہدایت پر ایک بار پھر کفا کے ساتھ مریدکے کیمپ لایا گیا جہاں پرانہیں پھر تیرنے کی تربیت دی گئی۔ بیان کے مطابق تربیت ختم ہونے کے بعد موجود افراد کے دو دو کے گروپ بنائے گئے اور سب کو کوڈ دیے گئے۔’میرا اور اسماعیل کا کوڈ VTS تھا‘۔ پولیس تحویل میں دیئے گئے بیان کے مطابق اس کے بعد اجمل کو ' گوگل ارتھ ' پر ’آزاد میدان‘ کا نقشہ دکھایا گیا۔انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح وہاں پہنچ کر انہیں ریلوے سٹیشن جانا ہے۔انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ صبح سات سے گیارہ اور شام سات سے گیارہ بجے بھیڑ والے اوقات ہوتے ہیں اس لیے ایسے وقت آپریشن شروع کرنے سے زیادہ اموات ہوں گی۔
پولیس کو دیے گئے مبینہ اقبالیہ بیان کے مطابق انہیں کہا گیا تھا کہ فائرنگ کے بعد وہ مسافروں کو یرغمال بنا کر کسی اونچے مقام پر چلے جائیں جہاں سے وہ چاچا سے رابطہ قائم کریں گے اور پھر چاچا انہیں میڈیا کے نمبر دیں گے جس سے وہ اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں۔ تاہم بیان کے مطابق انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ مطالبات کیا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تیئس نومبر کو چاچا اور کافا کے ساتھ دس افراد کراچی کے علاقے عزیزآباد سے ساحل سمندر پہنچے جہاں سے ایک کشتی میں الحسینی جہاز تک لائے گئے۔ہر فرد کو اے کے 47 رائفل، دو سو کارتوس، آٹھ دستی بم ، دو میگزین اور موبائل فون دیے گئے۔ یہ جہاز جب ہندستانی سمندری حدود میں پہنچا تو ایک ہندستانی کشتی کو اغوا کیا گیا اور اس میں موجود افراد کو قتل کرنے کے بعد اسی کشتی کے ذریعہ اجمل اور دیگر افراد ممبئی کے ساحل پر پہنچے۔ یہاں سے اجمل اور اسماعیل وی ٹی سٹیشن پہنچے اور وہاں کے ٹوائلیٹ میں گئے، بیگ سے گن نکالی اور اندھا دھند گولیاں برسانے لگے۔ مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد اس کے بعد وہاں سے فرار ہو کر کاما ہسپتال پہنچے اور وہاں کی جھاڑیوں میں چھپ کر اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے، اشوک کامٹی اور وجے سالسکر کو گولی مار کر ہلاک کیا اور دیگر کارروائیاں کیں۔ |
اسی بارے میں ممبئی پر حملے: خصوصی ضمیمہ27 November, 2008 | منظر نامہ ’عراق میں بھی اتنا ڈر نہیں لگا تھا‘27 November, 2008 | انڈیا ’غیر ملکی سامنے آ جائیں‘27 November, 2008 | انڈیا ممبئی فائرنگ، عینی شاہدین کیا کہتے ہیں26 November, 2008 | انڈیا گرفتار شدت پسند کا نارکو ٹیسٹ 05 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||