’میں کھمبے کے پیچھے چھپ گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وہ دو تھے انہوں نے اپنے بیگ نیچے رکھ دیے تھے اس میں سے میگزین نکال کر رائفل میں ڈال رہے تھے اور کسی کو دیکھے بغیر اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے۔انہوں نے تھوڑے سے وقت میں چار مرتبہ میگزین بدلے۔‘ جے جے ہسپتال میں اپنی زخمی بیوی کی تیمارداری میں مصروف رام کومل نے ٹی وی پر سٹیشن پر شدت پسندوں دیکھا کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود تھے۔ رام کومل اپنے گاؤں جانے کے لیے مہانگری ایکسپریس کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی وجیہ رام کومل اور ان کا سالا بھی تھا۔ کومل کچھ ہی دیر کے لیے بیت الخلا چلے گئے تھے گولیوں کی آواز سن کر باہر نکلے تو سارا خونیں منظر ان کے سامنے تھا۔وہ وہاں کھمبے کے پیچھے سکتے کے عالم میں کھڑے رہے۔ شدت پسندوں کے بارے میں کومل کہتے ہیں کہ وہ دبلے پتلے سے تھے۔ ان کا رنگ گورا تھا۔ان کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ دونوں کے پاس بڑا سا بیگ تھا جسے انہوں نے کندھے سے نیچے اتار کر رکھا ہوا تھا۔ کئی منٹ تک وہ اسی طرح فائرنگ کرتے رہے۔اس کے بعد وہ باہر کی طرف بھاگے۔ میں ڈرتے ڈرتے کھمبے کے پیچھے سے نکلا تو دیکھا کہ میری بیوی وجیہ خون میں لت پت ہے لیکن سالا مسری لال بے ہوش تھا۔ اس کا بدن گولیوں سے چھلنی تھا۔اس نے وہیں دم توڑ دیا۔ زخمی وجیہ رام کومل کے جسم کے نچلے حصے میں گولیاں لگی ہیں جس کی وجہ سے وہ صحیح سے بیٹھ بھی نہیں پاتی ہیں۔ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعہ گولیاں نکال لی ہیں۔ وجیہ کے بھائی مسری لال ان کے ساتھ ہی ممبئی کے مضافاتی علاقے بوریولی میں رہتے تھے۔انہیں رام کومل نے ہی رکشہ چلانا سکھایا تھا۔گاؤں میں ان کی بیوی گڈی اور ان کے تین بچے ہیں۔ وجیہ کے مطابق ان کے بھائی کی بیوی گڈی نے جب اپنے شوہر کی موت کے بارے میں سنا تو بے ہوش ہو گئی اور جب سے ہوش آیا ہے بہکی بہکی باتیں کر رہی ہے۔وہ لوگوں کو دیکھ کر کہتی ہے کہ تم گولی مارنے آئے ہو لو مجھے گولی مارو لیکن میرے آدمی کو چھوڑ دو۔ رام کومل کو یقین ہے کہ وہ س لیے بچ گئے کیونکہ بھگوان ان کے ساتھ تھا لیکن کیا بھگوان ان کے ساتھ نہیں تھا جو گولیوں کا شکار ہوئے۔ اس سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں تھا۔ |
اسی بارے میں ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ30 November, 2008 | پاکستان ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ہیمنت کر کرے کون تھے29 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||